30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کمائی کا روپیہ تھا اور جس وقت میں نے تمہاری والدہ سے زمین کے خرید نے اور دکان کے مول لینے کو یا مرمت مکان کو یادرمیانی دیوار بنانے کو روپیہ طلب کیا اس مرحومہ نے مجھ سے یہ نہیں کہا کہ اس وقت آپ کا ذاتی روپیہ تو میرے پاس نہیں، ہاں میرا ذاتی روپیہ موجود ہے یا کسی کی امانت میرے پاس رکھی ہے اس وقت آپ لےکر اپنا کام چلالیں بعد کو بتدریج ادا کر دیں،اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ روپیہ میری کمائی کا پس اندا ز تھا جو میں نے اس مرحومہ سے لیا۔
دوسرا جواب شرعی طور پر یہ ہے کہ اس مرحومہ نے مرتے دم تك اس روپے کا نسبت کبھی یہ نہیں کہا کہ جو روپیہ آپ نے فلاں فلاں وقت مجھ سے لے کر مکان میں لگایا تھا وہ میراذاتی روپیہ تھا اس کو آپ نے مجھ کو واپس نہیں دیا اب آپ اس روپے کو میری طرف سے کسی مدرسہ اسلامیہ یا مسجد یا کسی اور کار خیر میں لگادیں تاکہ مجھ کو اس کا ثواب پہنچتا رہے،اس سے بھی صاف ظاہرہوتا ہے کہ جو روپیہ میں اس سے لیا میرا ہی مملوك تھا۔
اور تیسرا جواب زید کایہ ہےکہ اگر بفرض محال یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ انہوں نے اپنا مملوك ہی روپیہ مجھ کو دیا تھا جب کہ آخریدم تك اس کو مجھ سے طلب نہ کیا اور نہ اس کی نسبت بوقت وفات مجھ کو کچھ وصیت کی تو وہ روپیہ انہوں نے مجھ کو بخش دیا اعنی وہ روپیہ مجھے واپس لینے کی غرض سے نہیں دیا بلکہ اس روپیہ کا مجھ کو مالك بنادیا تھا،پس علمائے دین سے استفسار ہے کہ زید کی خالدہ بیٹی کے دونوں دعوی ازروئے شرع شریف حق ہیں یا زید کے جوابات حق ہیں؟
الجواب:
خالدہ کا پہلا دعوٰی محض باطل و نامسموع ہے اعتبار لفظ کا ہے نہ کہ محض نیت کا فقد نصوا ان العبرۃ بما تلفظ لا بمانوی (فقہاء کرام نے تصریح کی ہے کہ لفظ کا اعتبار ہے نیت کا نہیں۔ت)روپیہ زوجہ کو خرچ کےلئے دیا جاتا ہے اس کی دو۲ صورتیں ہیں:ایك یہ کہ زن و شو وعیال ایك جگہ رہتے ہیں ایك خرچ ہے شوہر سب آمدنی اسے دے دیتا ہے وہ اپنے اور شوہر اور سب گھر کے مصارف اس سے اٹھاتی ہے،اس صورت میں وہ روپیہ تمام و کمال ملك شوہر پر رہتا ہے،عورت کا خرچ بھی ملك شوہر پر ہوتا ہے،اسے شرع میں تموین کہتے ہیں،عقد نکاح کا اصل موجب یہی ہے،ظاہرہے کہ اس میں جو کچھ پس انداز ہوگا شوہر کا ہے۔ دوسری صورت یہ کہ زن و شو جدا ہیں شوہر اسے نفقہ بھیجتا ہے یا ایك ہی جگہ ہیں مگر عورت کے خرچ کا اسے جدا دیتا ہے،عام ازیں کہ وقت معین پر مثلًا ماہوار رقم معین مثلًا دس روپے خاص بحکم قاضی خواہ بتراضی،یا تعیین کچھ نہیں وقتًا فوقتًا مختلف مقدار میں اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع