30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے عقد ثانی کا ارادہ بزمانہ حیات اپنی ولادہ اور زوجہ کے پختہ طور سے کرلیا اور دونوں کوا س کا علم قطعی طور سے ہوا لیکن اس پر بھی زید کی والدہ نے زید سے یہ نہیں فرمایا کہ تو اس مکان کو اپنی زوجہ یا اپنی اولاد کے نام منتقل کردے بلکہ زید کی ماں نے اسی مکان میں سالہاسال تك سکونت فرماکر وفات پائی آخر دم تك کوئی بات اس مکان کی نسبت نہیں فرمائی،زید نے بعد وفات اپنی وجہ اولٰی کے تخمینًا عرصہ بیس سال کا ہوا ایك عورت سے نکاح کرلیا ید اس مکان کو جس کو اس کی والدہ مرحومہ نے زید کے نام کرادیا تھا اسے زوجہ ثانیہ کے مہر میں دینا چاہتا ہے اور ایك دوسرا مکان جو اس مکان کے محاذ میں زید نے خریدا ہے اس کو اپنی زوجہ اولٰی متوفیہ کے اولاد کو تبرعًا دینا چاہتا ہے اس حالت میں زید کی بڑی لڑکی خالدہ یہ دعوی کرتی ہے کہ جس مکان کو آپ مہر میں ہماری مادر صاحبہ کے دینا چاہتے ہیں وہ مکان ہماری والدہ مرحومہ کا اور ہمارا ہے کیونکہ ہماری دادی صاحبہ مرحومہ کی دلی نیت یہ تھی ہماری والدہ صاحبہ اور ہم آپ کے ساتھ اس مکان میں رہیں اور ہماری دادی صاحبہ نے آپ کا نام بیعنامہ میں فرضی طور پر کرادیا تھا۔
دوسرا دعوٰی خالدہ کا یہ ہے کہ جب ہیہ مکان خریدا گیا تو صرف اس میں ایك کو ٹھا بہت نیچا تھا اس کو آپ نے اونچا کرایا اور اس کے آگے سہ دری مرتب کرائی اور دروازہ مسقف بنوایا اور باسٹھ گز زمین پچاس روپے کو خرید کر آپ نے اس مکان میں شام کی یہ سب روپیہ آپ نے ہماری والدہ سے لیا اور وہ سب روپیہ ہماری والدہ کا تھا کیونکہ جس قدر وپیہ آپ اپنی چالیس روہے کی تنخواہ میں سے بچا کر مان بماہ ہم کوروانہ کرتے تھے وہ ہماری والدہ کے نان و نفقہ اور ہمارے اخراجات کا تھاعلاوہ بریں ہماری والدہ صاحب مع ہمارے دوسرے تیسرے سال نانی صاحبہ کے گھر جاتی تھیں اور وہاں دو دو مہینے یا تین تین مہینے رہنا ہوتا تھا اور ہمارا سب کا کھانا نانی صاحبہ کے ذمہ ہوتا تھا اس عرصہ میں جس قدر روپیہ ماہواری آپ روانہ کرتے تھے وہ بچتا تھا وہ سب روپیہ ہماری والدی کا اور ہمارا تھا اس کے سوا ہمارے نانا صاحب کے مرید اور شاگرد نانا صاحب کے مکان پر آتے تھے وہ ہماری والدہ صاحبہ یا ہم کو کچھ روپیہ دیتے تھے وہ ہماری والدہ صاحب ہ کا اور ہمار ا ہوتا تھا۔
زید خالدہ کے اول دعوی ملکیت مکان کا یہ جواب دیتا ہے کہ اصل مکان جبکہ میری والدہ مرحومہ نے اپنی ذاتی رضامندی سے میرے نام کرادیا تو اس کے بعد یہ کہنا سراسر فضول ہے کہ ان کی دلی نیت تمہاری ملك میں دینے کی نہ تھی اور آپ کا نام فرض تھا کیونکہ بیع وشراء میں باعتبار شریعت کے دلی نیت کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ ظاہری الفاظ یا تحریر کا اعتبار ہوتا ہے،اور زید خالدہ کے دوسرے دعوٰی ملکیت روپے کا یہ جواب دیتا ہے کہ جو کچھ تمہاری والدہ کے پاس پس انداز روپیہ تھا وہ میری ہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع