30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سابعًا:خود احسان الحق کہتا ہے کہ نکاح ہونے کے بعد سب چلے گئے اس کے بعد دو ایك یا ایك آدھ روز وحیدی کے وہاں رہنے کا علم اسے کیونکر ہوااپنا معاینہ بیان نہیں کرتا،نہ یہ ان مواقع میں ہے جن میں سماع پر شہادت روا ہو تو بیان بے ثبوت ہے یہی حال اشتیاق احمد کا ہے اگر وہ چند اہی کے مکان میں نہ رہتا ہو۔
ثامنًا:اگر نکاح فضولی وحیدی کے مکان پر ہوتا اور وہ بعد علم نکاح حسب دستور رخصت ہوکر چند ا کے یہاں جاتی تو یہ ضرور اجازت فعلی کی حد میں آسکتا،یہاں تو یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ نکاح چنداہی کے مکان پر ہوا اور وحیدی کو اطلاع کا کوئی ثبوت نہیں معدود اشخاص کا باہرجمع ہونا اور اندر سے کچھ دریافت کرنا کیا موجب اطلاع زناں سے ہے اسی زخم نا مندمل کے بھرنے کوفتوائے رامپور نے وہ فقرہ اضافہ کیا جس نے اس فتوے کو نقل کے ساتھ عقل سے بھی بعید کردیااور جب اس وقت اطلاع نہ ہوئی بعد نکاح معًا ہونی کیا ضرور،اور اس کا کیا ثبوت۔ممکن کہ ایك آدھ یا دو ایك روز کے بعد ہی اسے خبر دی ہو جس پر وہ فورًا اپنی ماں کے یہاں چلی گئی۔
تاسعًا: منسب استحقاق سخت دشوار ہے اس میں شاید ولعل سے کام نہیں چلتا بلکہ احتمال دافع استحقاق وقاطع استدلال۔شہادت میں کہاں ہے کہ یہ رہنا بالاختیار تھا ممکن کہ مجبورًا بطور حبس رہی ہو اگرچہ اسی قدر کہ وہ پردہ نشین تھی اور سواری نہ ملنے دی۔
عاشرًا: بالفرض باختیار ہی رہی مگر لڑنے جھگڑنے میں وقت گزارا اور چلی آئی اور اپنے نفس پر قدرت نہ دی تو اجازت فعلی کس گھر سے آئیگی،وہ پانچ ادعاء اطلاع پر تھے یہ پانچ اجازت پر"تلك عشرۃ کاملۃ"جن سے آفتاب کی طرح واضح ہوگیا کہ یہاں وحیدی کی طرف سے اجازت فعلی ماننا محض سفسطہ ہے اور وہ بھی اس جوش کے ساتھ کہ نکاح صحیح شرعی ہوجانا یقینی انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔اسی لئے سوال میں یہ لفظ اضافہ کیا کہ ہندہ زید کے یہاں بعد نکاح حسب رواج زمانہ رہی مگر اس لفظ حسب رواج زمانہ کا ان بیچارے دونوں مدعیان توکیل کے بیان میں بھی پتہ نہیں حتی المقدور اجازت فعلی بنانے کے لئے از پیش خویش اضافہ ہوا ہے،ناراض ہونے کی بات نہیں،اسلامی خیر خواہی کے لئے عرض ہے کہ اتنے علم وعقل والوں کو امور شرعیہ میں دخل دینا،فتوٰی لکھوانا،تصدیق کرنا شرعًا حرام حرام حرام سخت کبیرہ ہے۔ابن عساکر امیر المومنین مولاعلی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے راوی کہ حضور اقدس سید عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من افتی بغیر علم لعنتہ ملٰئکۃ السماء والارض[1]۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی |
جس نے بغیر علم کے فتوٰی دیا اس پر آسمان و زمین کے فرشتوں کی لعنت۔(ت) |
[1] الفقیہ والمتفقہ باب ماجاء من الوعید لمن افتی بغیر علم حدیث ۱۰۴۳ دارابن جوزی ریاض ۲/ ۳۲۷،کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن علی حدیث۲۹۰۱۸ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۰/ ۱۹۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع