30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نکاح ہوا حالانکہ ہونے پر اصلًا ایك شہادت معتمدہ بھی نہیں جیسا کہ اوپر مفصلًا معلوم ہوا۔
ثانیًا:خود سمجھا کہ صرف اتنی بات دعوی مدعی مطالبہ رخصت کا اثبات نہ کرے گی لہذا اس میں یہ پیوند لگایا کہ اگر نکاح بطور فضولی کے منعقد ہوا تو اجازت ہندہ بعد نکاح ثابت ہے اجازت کےلئے دو امر درکار تھے عورت کو اطلاع ہونا اور اس کا جائز رکھنا اول کے ثبوت کو یہ بے معنی دلیل گھڑی کہ اس لئے کہ جلسہ نکاح کا منعقد ہونا اور کثیر لوگوں کاجمع ہونا اور ہندہ کا اجازت دینا نکاح پڑھوانے کے لئے دلیل کافی ہے کہ ہندہ کو علم نکاح ہوا یہ اس پر موقوف ہے کہ ہندہ کا وہاں ہونا ثابت ہوکہ کثیر لوگ نکاح کے لئے جمع ہونے سے اس کی اطلاع پر استدلال کیا جائے یہاں سرے سے جلسہ نکاح کا انعقاد ہی ثابت نہیں کہ شہادتیں سب مختل و مہمل ہیں۔
ثالثًا:نکاح خواں کہتا ہے نکاح میں ۱۵یا ۲۰آدمی سے کم نہ تھے،اشتیاق احمد کہتا ہے جلسہ نکاح میں ۲۵یا ۳۰ آدمی ہوں گے، احسان الحق بھی یہی کہتا اور لفظ اندازًا اور اضافہ کرتا ہے،اسی طرح یسین خاں تخمینًا کہتا ہے،قطع نظر اس سے کہ یہ شہادتیں شرعًا مردود ہیں،۱۵،۲۰یا ۲۵،۳۰کیا ایسا کثیر مجمع ہے جس کی اطلاع گھر کے اندر پہنچنی ضرور ہے خصوصًا اس حالت مں کہ نکاح خوان کہہ رہا ہے کسی عورت سے دریافت کا قاعدہ نہیں گواہان کے اعتبار پر نکاح پڑھوادیا،کسی عورت سے کچھ دریافت نہ کیا۔غلام صمدانی کہتا ہے نکاح رات کے ساڑھے دس بجے ہوا تھا جلسہ نکاح میں مظہر نو بجے پہنچا تھا،قاضی صاحب میرے سامنے آئے تھے،قاضی جی نے میرے سامنے عورتوں سے کچھ نہیں پو چھا،اشتیاق احمد کہتا ہے قاضی صاحب نے گواہوں سے دریافت کیا تھا انہوں نے کہا بیوہ ہیں اندر کسی سے دریافت نہیں کیا تھا صرف ایك احسان الحق کہتا ہے کہ نکاح خواں نے ہم سے بھی دریافت کیا اور آوازدے کر دریافت کیا کہ یہ لڑکی بیوہ ہے آواز آئی کہ بیوہ ہے یہ مستوران ثقہ نہایت عمدہ آدمی کی تکذیب کرتا ہے اور نہ سہی تو اکیلا ہے اور نہ سہی تو آواز آئی سے کیا ثابت ہوا اور اس سے کیونکر معلوم ہوا کہ وحیدی کو اطلاع ہوئی۔
رابعًا: اطلاع درکنار سرے سے وحیدی کا اس مکان میں ہونا ہی ثابت نہیں اس کا وہاں آنا ایك تو احسان الحق واشتیاق احمد نے بیان کیا یہ دونوں اپنے لئے مدعی توکیل ہیں ان کو تو اس کے بیان کی ضرورت ہی لاحق تھی مگر کسی وکیل کا ادعائے وکالت بحال انکار موکل مسموع نہیں ہوسکتا۔باطل ست انچہ مدعی گوید(مدعی جو کچھ کہتا ہے باطل ہے۔ت)یسین خاں کہتا ہے وحیدی نے زور سے آوازدی کہ میرا نکاح پڑھوادو۔یہ اس کی تراش باقی سب گواہوں سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع