30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الوجہ لاتقبل شہادتھم[1]۔ |
تو ان کی شہادت مقبول نہ ہوگی۔(ت) |
اس کی رد شہادت کی ایك وجہ وہ ہے جو شہادت یسین خاں میں بھی تھی دوسری اور بھاری وجہ یہ ہےکہ وہ اپنے آپ کو وکیل بالنکاح بتاتا اور اپنے فعل سے کار نکاح تمامی کو پہنچنا بیان کرتا ہے ایسی شہادت مردودہے۔خلاصہ میں ہے:
|
الوکیلان بالنکاح اوالخلع اذاشھداباثبات ذلك النکاح او ذٰلك الخلع لاتقبل[2]۔ |
نکاح یا خلع کے دو وکیل اگر اس نکاح یا خلع کے اثبات میں شہادت دیں تو مقبول نہ ہوگی۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
رجلان شھدا علی رجل انہ قال لھما ان مسست جسدکما فعبدی ھذا حرفشہد اانہ مس جسد ھما لایقبل لانھما شھدافی امرتم بھا بخلاف شہد اانہ قال ان مسست ثیابکما وقد مس انہ یقبل ویعتق الغلام لان الثیاب غیرہما[3]۔ |
دو مردوں نے ایك شخص کے متعلق گواہی دی کہ اس نے کہا تھا اگر میں تمہارے جسم کو چھولوں تو میرا غلام آزاد ہے،اور پھر شہادت دی کہ اس نے ہمارے جسم کو مس کیا ہے تو یہ شہادت مقبول نہ ہوگی کیونکہ انہوں نے ایسی چیز کی شہادت دی ہے جس کا اتمام خود ان سے ہوا ہے بخلاف جب جسم کی بجائے اپنے کپڑوں کو چھونے کا ذکر کریں اور پھر اس کے مس کرلینے پر شہادت دیں تو مقبول ہوگی اور غلام آزاد قرار پائے گا کیونکہ ان کے کپڑے ان کا غیر ہیں۔(ت) |
(۵)اشتیاق احمد ولد کریم اﷲ برادر مدعی،اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں عرصہ تخمینًا ساڑھے سات ماہ کا ہوا قمر الدین کی بیٹی وحیدی اس کا نام اس کا نکاح چندا ولد کریم اﷲ کے ساتھ ہوا وحیدی نے مجھ سے اور احسان الحق سے کہا میں نکاح چندا کے ساتھ کرتی ہوں میرا نکاح کرادو میں اجازت دیتی ہوں،حافظ غلام سرور نے نکاح پڑھوایا ہمارے دو گواہیوں کے ساتھ،اس کے بیان میں یہ جملہ کہ قمر الدین کی بیٹی وحیدی اس کا نام مستقل جملہ ہے جس نے مابعد کے بیان نکاح کو اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع