30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیز اس کی شہادت میں ایك اور خلل بھی ہے جس کا بیان آگے آتاہے ان شاء اﷲ تعالٰی۔
(۳)غلام صمدانی خاں ولد صاحبزادہ افتخار علی خان فیصلہ کہ اس پر یہ اعتراض ہیں اس نے وحیدی کا کوئی لفظ کہنا بیان نہ کیا نہ وکیل کا ذکر کیا۔یہ وہی بات ہےکہ اس سے توکیل بے ثبوت ہوگی نہ کہ نفس انعقاد۔اس شہادت میں پور اخلل یہ ہےکہ چندا مدعی حاضر عدالت کا نکاح وحیدی بنت قمر الدین خاں کے ساتھ ہوا قمر الدین خاں شاید وحیدی کے باپ ہیں ان کا نام ہے،اس شاید نے مشہود علیہا کو مشکوك و محتمل ومجہول کردیا۔شہادت و شاہد میں بین تنافی ہے۔
(۴)احسان الحق ولد غلام سرور،اس کا بیان ہے کہ عرصہ سات یا ساڑھے سات ماہ کا ہوا کہ چنداولد کریم اﷲ کا نکاح وحیدی بنت قمر الدین خاں کے ساتھ ہوا،وحیدی نے مظہر کو اپنے نفس کا اختیار دیا اور اشتیاق احمد کو کہ میرا نکاح پڑھوا دو،مظہر نے چندا کے ساتھ پڑھوادیا۔غلام سرور وکیل سے مظہر نے کہہ دیا اور غلام سرور نے خود سن لیا،وکیل اور گواہان کے کہنے کے بموجب قاضی نے نکاح پڑھادیا۔نکاح ملحق بالافعال ہے کہ بے فعل تمام نہیں ہوتا تو اس میں اختلاف زمانہ مسقط شہادت ہے اور ایسی جگہ قول مردود مثلًا سات یا ساڑھے سات مقبول نہیں۔عالمگیریہ وخانیہ وغیرہما میں ہے:
|
ان کان المشہود بہ قولا لایتم الا بفعل کالنکاح واختلف الشہود فی المکان او الزمان او فی الانشاء والاقرار لاتقبل شہادتھم[1]۔ |
جس چیز کی گواہی دی جارہی ہے وہ ایسا قول ہو جو فعل و عمل سے تام ہو جیسے نکاح وغیرہ اور گواہوں کا مکان یا زمان یا انشاء اور اقرار میں اختلاف ہو تو ان کی شہادت مقبول نہ ہوگی۔ (ت) |
عالمگیریہ وذخیرہ میں ہے:
|
اذا ادعی دہ دوازدہ درھم لا تسمع دعواہ وکذٰلك اذا ذکر التاریخ فی الدعوی علی ھذہ الوجہ بان قال ایں عین ملك من ست ازدہ دوازدہ سال فانہ لاتسمع دعواہ وکذٰلك اذا ذکر الشھود التاریخ فی شہادتھم علی ھذا |
جب دعوٰی دس بارہ درہم کا کرے تو وہ قابل سماعت نہ ہوگا اور یوں ہی اگر دعوٰی میں تاریخ کو اس طرح ذکر کرے مثلًا یوں کہے یہ چیز دس بارہ سال سے میری ملك ہے تو بھی دعوٰی مسموع نہ ہوگا،اور یونہی اگر گواہوں نے شہادت میں مہینہ اور تاریخ کو اس طرح ذکر کیا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع