30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوٰی بزازیہ وعالمگیریہ میں ہے:
|
شھدا علی رجل انہ قال ان مسست جسدکما فامرأتہ کذا اوعبدہ حر و مس جسد نا لاتقبل ولو شھد انہ قال ان مسست ثیابکما وفعل تقبل وفی فتاوی القاضی لوارادالشہود ان یشھدوافی ھذہ المسائل یشھدون بالطلاق والعتاق مطلقًا بلا بیان السبب[1]۔ |
دو گواہوں نے یہ شہادت دی کہ فلاں شخص نے کہا تھا کہ اگر میں تم دونوں کے جسم کو مس کروں تو میری بیوی کو طلاق یا میرا عبد آزاد ہے جبکہ اس شخص نے ہمارے جسم کو مس کرلیا ہے تو یہ شہادت مقبول نہ ہوگی،اور اگر گواہوں نے اپنے جسم کے بجائے کپڑوں کا ذکر کرتے ہوئے شہادت دی اور کہا اس نے ایسا کرلیا ہے تو شہادت مقبول ہوگی،اور فتاوٰی قاضی خاں میں ہے کہ اگر گواہ حضرات ان مسائل میں گواہی دینا چاہیں تو سبب بیان کئے بغیر مطلقًا طلاق وعتاق کی شہادت دیں۔ (ت) |
(۲)یسین خاں ولد قسیم خاں یہ کہتا ہے عرصہ تخمینًا سات یا ساڑھے سات ماہ کا ہوا کہ مظہر چندا ولد کلن مدعی حاضر عدالت کے مکان پر گئے وحیدی بنت قمر الدین خاں نے زور سے آواز دی کہ چنداولد کلن سے میر ا نکاح پڑھوادو وحیدی نے گواہان کو اجازت دی گواہان نے نکاح پڑھوادیا فیصلہ میں اس پر ایك اعتراض یہ فرمایا ہے کہ اس نے گواہوں کے نام ظاہر نہیں کئے کہ کس کو اجازت دی،مگر شہادت بالنکاح بیان نام مزوج ووکیل وشہود کی محتاج نہیں ایك یہ اعتراض ہے کہ وحیدی کی اجازت بذریعہ سماع آواز بیان کرتا ہے اور خود کہتا ہے کہ اندر اور عورتیں بھی تھیں،اس سے ثبوت توکیل میں خلل آیا نہ نفس انعقاد وعقد میں کہ بذریعہ فضولی بھی ممکن۔ہاں ایك اعتراض یہ ہے کہ چندا کی ولدیت غلط بیان کی،واقعہ اگر عبدالکریم کا عرف کلن نہ ہو تو یہ بھاری اعتراض ہے اور کچھ نہ ہو تو اس کی شہادت میں ذکر زوج مجمل ہے گواہان نے نکاح پڑھوادیا،کس سے پڑھوادیا اسی سے جس کی نسبت وحیدی نے اجازت دی تھی یا دوسرے سے،شہادت میں ایسی محتمل بات نہیں لی جاتی،
|
کما یشھدبہ من شاھد کلمات العلماء فی باب خلل المحاضر والسجلات وغیر ذلک۔ |
جیساکہ علمائے کرام کے مقالموں اور کاغذی ریکارڈ وغیرہ میں خلل سے متعلق کلام کا مشاہدہ کرنے والا گواہی دے گا۔(ت) |
[1] فتاوٰی ہندیہ بحوالہ فتاوی بزازیہ کتاب الشہادات الباب الرابع الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۸۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع