30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بر عمر وقائم نمود پس ایں چنیں مطالبہ فیس کہ جوازش منسوب برواج ست عندا لشرع صحیح ست یا نہ۔بینوا توجروا۔ |
قانون کے مطابق عمرو کو ادا کرنا لازم آتا ہے تو کیا ایسے مروج قانون کے مطابق زید کو عمرو سے یہ فیس وصول کرنا درست ہے یانہیں،شرعًا کیا حکم ہے؟بینواتوجروا۔(ت) |
الجواب:
|
آنراکہ حکم شرع مطہر درکارست نزدشرع شریف خرچہ مدعی بر مدعٰی علیہ عائد نتواں شد گو مد عی محق باش اگر بے رضایش گیر د مدعاعلیہ ازوواپس تواں گرفت اگر ندہد مواخذہ و مطالبہ بر گرد نش ماند در عقود الدریہ فرمود رجل کفل آخر عند زید بدین معلوم ثم طلبہ زید بہ والزم بہ لدی القاضی،فطلب الرجل من زید ان یمہلہ بہ فابٰی الاان یدفع لہ الرجل قدرما صرفہ فی کلفۃ الالزام فدفعہ لہ ثم دفع لہ المبلغ المکفول بہ ویرید الرجل مطالبۃ زید بماقبضہ زید منہ من کلفۃ الالزام فہل لہ ذٰلك [1](الجواب)نعم حیث الحال ماذکر۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
شرعی حکم یہ ہےکہ شرع شریف میں مدعی کا خرچہ مدعی علیہ پر عائد نہیں ہوتا اگرچہ مدعی حق پر ہو،اگر مدعی نے مدعی علیہ سے اس کی رضا مندی کے بغیر خرچہ وصول کرلیا ہو تو مدعٰی علیہ اس سے واپس لے سکتا ہے،اگر واپس نہ دے تو شرعًا مدعی کی گردن پریہ مطالبہ ومواخذہ باقی رہے گا،عقود الدریہ میں ہے کہ ایك شخص نے دوسرے کو زید کے دین معلوم کا کفیل بنایا،پھر زید نے کفیل سے مطالبہ کرتے ہوئے قاضی کے ہاں اس پر دین کی ادائیگی لازم کردی تو اس کفیل شخص نے زید کو مہلت کے لئے کہا تو زید نے مہلت دینے سے انکار کردیا مگر یہ کہا اگر تو قاضی کے ہاں دعوٰی الزام پر خرچ شدہ رقم ادا کردے تو تجھے مہلت دے دوں گا،اس پر کفیل شخص نے خرچہ کی رقم ادا کردی پھر مہلت کے مطابق وہ رقم جس کی کفالت تھی زید کو ادا کردی اس موقعہ پر کفیل نے زید سے مطالبہ کیا کہ مقدمہ کے خرچہ کی رقم جو تو نے وصول کی وہ مجھے واپس کردے،آیا اس واپسی کے مطالبہ کاکفیل شخص کو حق ہے، جواب دیا گیا مذکورہ حال پر حق حاصل ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم (ت) |
مسئلہ ۱۳۱: ازریاست رامپور محلہ محل موتی خاں ۲۷/شوال ۱۳۳۶ھ
زید نے اپنے نابالغ بچے بکر کے مقدمہ میں پنچوں کو حکم کردیا تو آیا باپ بیٹے کے مقدمہ میں کسی کو حکم کرسکتا ہے یانہیں؟اور فیصلہ پنچایت قابل پابندی ہے یانہیں؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع