30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولامنفعۃ فلا یمنع کرجل لہ شجرۃ یستظل بھا جارہ اراد قلعھا لایمنع منہ ولو تضرر بہ جارہ،اذ رب الشجرۃ بالقلع یمنعہ عن الانتفاع بملکہ[1]۔ |
دوں گا تو اس کو منع کرنے کا حق نہیں ہے ظاہر روایت میں، کیونکہ یہ خالی جگہ والے کو اپنی ملکیت سے انتفاع سے منع کر نا ہے جبکہ عمارت والے کی ملکیت اور اس کے انتفاع میں نقصان نہیں لہذا جگہ والے کو عمار ت بلند کرنے سے منع نہیں کیا جائے گا،جیساکہ ایك آدمی کا درخت جس سے پڑوس والے کو سایہ حاصل ہوتا ہو درخت والے کو اس کے اکھاڑنے سے نہیں روکا جاسکتا حالانکہ پڑوسی کو اس سے ضرر ہے، کیونکہ درخت کا مالك اکھاڑ کراپنی ملکیت سے دوسرے کے نفع کو روك رہا ہے۔(ت) |
فتح القدیر وردالمحتار میں ہے:
|
والحاصل ان القیاس فی جنس ھذہ المسائل ان یفعل المالك ما بدالہ مطلقًا لانہ متصرف فی خالص مبلکہ لکن ترك القیاس فی موضع یتعدی ضررہ الی غیرہ ضررا فاحشا وھو المراد بالبین وھو مایکون سببا للھدم،اویخرج عن الانتفاع بالکلیۃ وھو ما یمنع الحوائج الاصلیۃ کسدالضوء بالکلیۃ واختار و الفتوی علیہ فاما التوسع الی منع کل ضرر مافیسد باب انتفاع الانسان بمبلکہ کما ذکرنا قریبا[2]۔ |
اور حاصل یہ ہے کہ اس قسم کے مسائل میں قیاس یہ ہےکہ مالك اپنی ملکیت میں جو چاہے تصرف کرے کیونکہ وہ اپنی خالص ملك میں تصرف کررہا ہے لیکن بعض ایسے مقامات میں جہاں مالك کا تصرف دوسرے کےلئے فحش ضرر پیداکرے وہاں یہ قیاس متروك ہوگا اور فحش ضررسے ایسا تصرف ہی مراد ہے جو دوسرے کے مکان کے گرنے کا سبب ہو یا دوسرے کو اپنی ملکیت میں انتفاع سے مکمل طور پر محرورم کردے وہ یوں کہ اس کے حوائج اصلیہ کو ختم کردے مثلًا کلیۃً روشنی کا ختم کردینا اور اسی پر فتوٰی کو فقہاء نے پسند کیا ہے لیکن ہر قسم کے ضرر کی وجہ سے منع کو وسیع کرنا اس سے تو انسان کا اپنی ملکیت سے انتفاع کا دروازہ بند ہوجائے گا،جیسا کہ قریب ہم ذکر کرچکے ہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع