30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فان البینۃ علی من ادعی والیمین علی من انکر[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کیونکہ گواہ پیش کرنا مدعی پر اور قسم مدعی علیہ پر ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۱۲۹: از سہسرام،ضلع گیامدار دروازہ مرسلہ قادر بخش صاحب ۳شوال ۱۳۳۵ھ
ایك مسجد محلہ مدار دروازہ میں واقع ہے جس کے اتر جانب کی دیوار اسے ایك ہندو حلوائی نے اپنا مکان مسجد مذکور کی دیوار سے دیوار ملا کر اس طرح اٹھایا کہ جس سے مسجد کے اتر جانب ایك فرخانہ جھنجری نما ہوا کے لئے ایك کھڑکی تھی اس کو اپنی نو دیوار سے بند کردیا ہے جس سے ہوا بالکل بند ہوگئی ہے اب نمازیوں کو بسبب بند ہوجانے ہوا کے از حد تکلیف ہے اور جانب اتر و پورب کچھ اینٹ دیوار جدید فصیل مسجد پر زیادہ کرکے بنالیا ہے جو قریب دو انچ کے ہوگی مسجد کی فصیل پر اس کی اینٹ چڑھی ہوئی ہے اور ایك جانب پورب سے وہ ناگر معلوم عــــــہ ہوتی ہے یہ مسجد زمانہ چھپن برس کی بنی ہوئی ہے اس نے آج یہ نیا کام بنایا ہے،ازروئے شرع شریف اس میں کیا حکم ہے؟
الجواب:
اگر کوئی شخص دیوار مسجد کے متصل اور اسی کی ہوا میں دیوار اٹھائے تو کتنی ہی بلند کرے اسے ممانعت نہ ہوگی کہ خاص اپنی ملك میں تصرف کررہاہے اورمسجد کا کوئی ضرر نہیں،نمازیوں کے لئے ایك طرف کی ہوا رکنا کوئی ضرر نہیں جس کے سبب کسی شخص کو اپنی ملك میں تصرف سے روکا جائے۔جامع الفصولین میں ہے:
|
اراد ذو الساحۃ ان یبنی فیہا ویرفع بنائہ فقال ذو البناء انك تسد علی الریح والشمس فلا ادعك ترفع البناء فلہ منعہ لافی ظاہر الروایۃ لان ذا الساحۃ منعہ عن الانتفاع بمبلکہ ولم یتلف علیہ ملکا |
خالی جگہ پر مالك تعمیر کرنا چاہتا ہے اور عمارت بلند کرتا ہے تو دوسری عمارت والا اعتراض کرتے ہوئے کہتا ہے تو ہوا اور دھوپ کو مجھ پر بند کررہا ہے اس لئے میں تجھے عمارت بلند نہ کرنے |
عــــــہ:اصل میں اسی طرح ہے۔
[1] صحیح البخاری کتاب الرہن قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۴۲،جامع الترمذی ابواب الاحکام امین کمپنی دہلی ۱ /۱۶۰،السنن الکبرٰی کتاب الدعوات دارصادر بیروت ۱۰ /۲۵۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع