30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غیر صحیح،اور صورت مسئولہ میں مدعا علیہما مجیب پر حلف متوجہ ہوتا ہے یانہیں،دوسرے جبکہ مدعیات اپنے دعوٰی کو ثابت نہ کرسکیں تو اب مدعا علیہما نمبر ۲ و نمبر۳ کو اپنی جوابدہی کے موافق ثبوت دینے کی ضرورت باقی رہی یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مدعیات کامدعا علیہم سےحلف طلب کرنا صحیح نہیں نہ مدعا علیہم پر حلف متوجہ ہو۔بحرالرائق میں ہے:
|
ان لم تکن للمدعی بینۃ حلف القاضی المدعی علیہ بطلب المدعی لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم للمدعی الك بینۃ قال لافقال لك یمینہ سأل ورتب الیمین علی فقدان البینۃ [1]۔ |
اگر مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں تو پھر قاضی مدعی علیہ سے قسم کا حلف لے اگر مدعی طلب کرے کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مدعی کو فرمایا کیاتیرے پاس گواہ ہیں،اس نے کہا نہیں،فرمایا تجھے اس کی قسم لینی ہوگی،حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود سوال فرمایا اور مرتب فرمایا کہ قسم گواہ نہ ہونے پر ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
ثبوت الحق فی الیمین مرتب علی العجز عن اقامۃ البینۃ بما رویناہ فلایکون حقہ دونہ[2]۔ |
قسم کا حق گواہ پیش کرنے سے عاجز ہونے پر مرتب ہوتا ہے اس حدیث کے سبب جو ہم نے روایت کی ہے تو اس عجز کے بغیر قسم کا حق نہ ہوگا۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
لو حاضرۃ فی مجلس الحکم لم یحلف اتفاقا[3]۔ |
اگر وہ قاضی کی مجلس میں حاضر ہوں تو بالاتفاق قسم لینا جائز نہیں(ت) |
جب مدعی اثبات دعوٰی سے عاجز ہو،منکر کو ثبوت دینے کی حاجت نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع