30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المدعی علیہ دہ دوازدہ درہم لاتقبل لمکان الجہالۃ وکذٰلك اذا ادعی دہ دوازدہ درم لاتسمع دعواہ وکذالك اذا ذکر التاریخ فی الدعوی علی ھذاالوجہ بان قال ایں عین ملك من ست ازدہ دوازدہ سال فانہ لاتسمع دعواہ،وکذٰلك اذذکر الشہود التاریخ فی شہادتھم علی ھذا الوجہ لاتقبل شہادتھم کذافی الذخیرۃ[1] |
مدعی علیہ پر دس بارہ درہم ہیں جہالت کی وجہ سے یہ شہادت مقبول نہ ہوگی،اور یوں ہی اگر مدعی نے دس بارہ درہم کا دعوٰی کیا تو اس کا دعوٰی قابل سماعت نہ ہوگا،اور یونہی اگر گواہوں نے اپنی شہادت میں ایسی تاریخ ذکر کی تو ان کی شہادت مقبول نہ ہوگی ذخیرہ میں یوں ہے۔(ت) |
لہذا شہادتیں سب مردود اور دعوٰی محض بے ثبوت وواجب الرد،اور فیصلہ مفتی صاحب لازم القبول،حکم شرعی یہ ہے اور حکم نہیں مگر شر ع کےلئے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۲۸: ۲۵/شعبان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ اور نصیبہ نے اپنے ترکہ پدری کے تقسیم کا دعوٰی عمرو برادر خورد اور مسماۃ زبیدہ خاتون بیوہ اور بکر پسر زید برادر کلاں کے نام دائر کچہری کیا۔زبیدہ خاتون بیوہ اور بکر پسر مدعا علیہا مجیب ہوئے کہ ترکہ مظہرہ مدعیات غلط اور غیر صحیح ہے جس قدر جز ہمارے مورث زید کا مملوکہ مقبوضہ چالیس سال کا ہے وہ مستثنٰی ہوکر جس قدر متروکہ پدر مدعیات ثابت کریں اس کے تقسیم میں کچھ عذر نہیں ہے عمرو برادر خورد مدعا علیہا بوجہ سازش مدعیات ضمنًا مقبل دعوی اور ظاہر ایك جز و کابذریعہ خریدار مدعیات و مدعا علیہا نمبر۲ونمبر۳ کا دعویدار ہوا کچہری سے مطابق تنیقیحات ہر ایك سے بقدر دعوٰی کے ثبوت و تردید طلب ہوا۔مدعیات نے ایك مرتبہ گواہ طلبی بذریعہ کچہری کراکر بعذر عدم تعمیل سمن ثبوت داخل کرنے سے گریز کیا مگر بذریعہ سمن طلبی گواہان کراکر تاریخ موعود پر گواہان حاضر کو ہدایت حاضری تاریخ ثانی بعذر عدم حاضری جملہ گواہان کچہری سے رخصت کرادیا۔سہ بارہ بذریعہ سمن جملہ گواہان حاضر کچہری کرائے گئے اور باوجو د حاضری گواہان بہ کچہری بدیں مضمون درخواست پیش کی کہ گواہان کا اعتماد نہیں ہے لہذا جملہ مدعا علیہم مجیب سے حلف لے لیا جائے۔پس دریافت طلب امر یہ ہےکہ بحالت موجودگی گواہان در مجلس قضا مدعیات کا انحصار بحلف مدعا علیہم مجیب شرعًا صحیح ہے یا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع