30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واجب اور بکر اس کھڑکی کے کھولنے کا اختیار رکھتا ہے مکان مع جمیع حقوق اس نے خریدا ہے حقو ق میں یہ مرور بھی ہے عمرو وبکر دونوں کو یکساں اس میں حق مرور حاصل ہے عمرو کا اس میں دیوار قائم کرنا تصرف باطل ہے اوراس کا انہدام لازم۔نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لیس لعرق ظالم حق[1] (ظالم کے دخل کا کوئی حق نہیں۔ت)دروازہ جدید کہ عمرو نے نکالا ہے اس کے نکالنے کا اس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اندر کی جانب نہیں باہر کی طرف ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۲۷: مرسلہ اکبرخاں ساکن ریاست رامپورمحلہ جھنڈا بڑے پیر صاحب ۲۶/ ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
مقدمہ عباسی بیگم زوجہ عنایت احمد خان وعنایت احمد خاں ولد عبدالرحیم خاں بنام کریم بخش ولد رحیم بخش،دعوٰی یہ کہ مدعا علیہ نے مدعیہ کی اراضی مرور ۱۲ گرہ عریض اور ۸ گز ۱۲ گرہ طویل دباکر دیوار بنالی محکمہ دیوانی نے گواہان مدعی کا بیان ناقص و مجہول وباہم مختلف و نیز مخالف دعوٰی مان کر یکسر خارج کیا محکمہ ججی سے صرف چار گرہ کی ڈگری ہوئی کہ اس قدر میں مدعیہ کو مردہ نکالنے کی وسعت ہوجائے گی محکمہ عالیہ اپیل نے شہادت مدعیہ راجح ٹھہراکر کل دعوٰی ڈگری فرمایا یہ تمام تجویزیں مع نقول باضابطہ گواہان فریقین دارالافتاء میں حاضر کرکے استدعا ہےکہ اس صورت میں جو حکم شرعی ہو ارشاد ہو۔بینواتوجروا ۔
الجواب:
" اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ ؕ "[2] (حکم صرف اﷲ تعالٰی ہی کا ہے۔ت) حکم اگر شریعت کے لئے ہے اور بیشك حکم شریعت ہی کے لئے ہے حکام اگر اس لئے مقرر ہوتے ہیں کہ مطابق شرع فیصلہ کریں اور بیشك وہ اسی لئے مقرر ہوتے ہیں اور یہی ان کا فرض ہے تو شریعت مطہرہ نے قاضی کے حضور ثبوت دعوی کے صرف تین طریقے رکھے ہیں:بینہ،اقرار،نکول اور جہاں تینوں معدوم ثبوت معدوم،اور قضاء بحق مدعی ناممکن۔فتاوٰی امام اجل قاضیخاں میں ہے:
|
القاضی انما یقضی بالحجۃ والحجۃ وھی البینۃ او الاقرار والنکول[3]۔ |
قاضی صرف حجت کی بنا پر فیصلہ کرے گا اور حجت صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے(ت) |
[1] السنن الکبری للبیہقی کتاب الغصب باب لیس لعرق ظالم الخ دارصادر بیروت ۶ /۹۹،صحیح البخاری کتاب الحرث ۱/ ۳۱۴ وسنن ابی داؤد کتاب الخراج ۲ /۸۱
[2] القرآن الکریم ۶ /۵۷
[3] فتاوٰی قاضیخان کتاب الوقف نولکشورلکھنؤ ۴ /۷۴۲،فتاوٰی خیریہ کتاب القاضی الی القاضی باب خلل المحاضر والسجلات دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۹ و ۵۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع