30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
صورت مستفسرہ میں بکر کا دعوٰی مدفوع اور اصلًا نامسموع،شیخ الاسلام ابو عبداﷲ محمد عبداﷲ غزی تمر تاشی نے اپنے فتاوٰی میں تصریح فرمائی ہے کہ:
|
لا تسمع الدعوی بعد ثلث سنین قطعا للحیل و التزویر والاطماع الفاسدۃ[1] (ملتقطا) |
حیلہ سازی،جھوٹ اور فاسد لالچ کے احتما ل کی وجہ سے تین سال کے بعد دعوٰی قطعًا قابل سماعت نہ ہوگا(ملتقطًا)۔(ت) |
اسی طرح خیریہ و عقود الدریہ وردالمحتار وغیرہا میں ہے،والتفصیل فی فتاوٰنا(اور س کی تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۲۶: مرسلہ ناصر الدین خاں ساکن پیلی بھیت محلہ بشیر خاں ۲/صفر ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شر ع متین اس مسئلہ میں کہ زید اور عمرو کے دروازوں کے سامنے ایك اراضی چودہ فٹ چار انچ طویل اور پانچ فٹ نوانچ عریض بغرض مرور کے ہے،عرصہ پندرہ سولہ سال سے زید نے بجائے دروازہ کے کھڑکی کرلی اور اس سے آمدورفت جاری رکھی،پھر زید نے اس کو تقریبًا ایك سال تك بندر کھااور اسی حالت میں اپنے مکان کا بیعنامہ مع جملہ حقوق داخلی و خارجی کے بکر کو کردیا اور اس بیعنامہ میں اس کھڑکی کا ذکر نہیں اور اس بیعنامہ میں دوسری کھڑکی کا بھی ذکر نہیں ہے جو اس مکان میں دوسری طرف لگی ہوئی ہے بکر نے مکان خرید نے کے بعد کھڑکی کھول لی جس کو تقریبًا تیرہ چودہ سال ہوئے اب عمرو نے اس اراضی کو اپنے گھر میں عرصہ تین ماہ سے ڈال لیا ہے اور ایك دروازہ جدید اراضی مرور میں لگایا ہے جو ملاحظہ نقشہ سے ظاہر ہوگا،آیا زید کو اپنی کھڑکی کھولنے کا حق تھا یانہیں اور اگر حق حاصل تھا تو وہی حق مشتری بکر کو حاصل ہے یا نہیں اور عمرو اس اراضی کو اپنے مکان میں الحاق کرنے کا مجاز ہے یانہیں؟
الجواب:
عمرو کو کوئی استحقاق اس زمین کے الحاق کا نہیں،یہ سراسر ظلم ہے اور اس سے باز آنا اس پر
[1] ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۴۴،العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۳،فتاوٰی خیریۃ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۴۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع