30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب
(۱)بیعناموں کی حدود میں ملك فلاں لکھا ہونا حجت نہیں،
|
فان القاضی انما یقضی بالبینۃ اوالاقرار اوالنکول اما الکتاب فلیس من الحجۃ فی شیئ کما فی الخانیۃ والخیریۃ وغیرھما[1]۔ |
کیونکہ قاضی صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار پر فیصلہ دیتا ہے لیکن تحریر کوئی حجت نہیں ہے جیساکہ خانیہ اور خیریہ میں ہے۔(ت) |
اس کے ساتھ اگر کاتبان بیعنامہ کی زبانی شہادتیں یوں ہی کہ یہ بیعنامے ہم نے لکھے اور ان کے حدودمیں فلاں مکان ملك فلاں لکھا تو یہ بھی کوئی چیز نہیں کہ یہ شہادت ملك پر نہیں بلکہ اپنے ایك فعل پر ہے اور اگر وہ یوں گواہی دیتے ہیں کہ یہ مکان ملك مولابخش ہے کہ حدود بیعنامہ میں اس کی ملك لکھا ہے تو یہ بھی اصلًا مسموع نہیں کہ کتابت صك غیر مقر پر حجت نہیں،ہاں اگر وہ مطلقًا یہ مکان ملك مولابخش ہونے کی گواہی دیتے ہوں اور تحریر حدود کو اس کا متبع بتاتے ہوں تو گواہی مسموع ہے،اور اگر وہ عادل شرعی ہیں تو حکم یا قاضی کو اس جرح کا کوئی حق نہیں کہ تم نے کیونکر اس کی ملك جانی ہاں اگر مستور ہوں اور حکم کو شبہہ گزرے تو سوال کرے والمسئلۃ توخذمن جامع الفصولین وغیرہ(یہ مسئلہ جامع الفصولین وغیرہ سے لیا گیا ہے۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔
(۲)یہ شہادت اگر پوری تعیین بائع و مشتری کے ساتھ ہو بھی کہ ایك گواہ گواہی دے کہ میرے سامنے یہ مکان زید بن بکرنے مولٰی بخش بن فلان بن فلاں کے ہاتھ بیع کیا،اور دوسرا گواہ گواہی دے کہ میرے سامنے مولٰی بخش بن فلاں بن فلاں نے کہا کہ میں نے یہ مکان زید بن عمرو بن بکر سے خریدکیا جب بھی اصلًا مسموع نہیں کہ دونوں شہادتیں کسی امر واحد پر وارد نہیں،نہ کسی کا بیان کہ میں نے خرید کیا دوسرے پر حجت ہوسکے،اور اسے شہادت علی الاقرار سمجھنا محض بے معنی ہے کہ یہ کہنا کہ میں نے خرید کیا اقرار نہیں دعوٰی ہے،اقرار ودعوٰی میں زمین آسمان کا بل ہے،اقرار مقر پر کوئی حق لازم کرنا ہے بخلاف اس صورت کے کہ ایك گواہ گواہی دے کہ اس بائع نے میرے سامنے اس مشتری کے ہاتھ یہ چیز بیع کی،دوسرا گواہی دے کہ میرے سامنے اس بائع نے اقرار کیا کہ میں نے یہ چیز اس مشتری کے ہاتھ بیع کی،یہ ضرور اقرار کی شہادت ہے اور دونوں شہادتوں سے واحد پر وارد کہ بیع میں صیغہ انشاء وصیغہ اقرار دونوں"بعت"ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع