30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالشہادۃ ناقلا علی صاحب الدرر ولو شھد احدھما ان فلانا باع منہ و اٰخران فلانا اقربا لبیع منہ تقبل الخ۔ |
میں صاحب درر سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ اور گواہوں میں سے ایك نے شہادت دی کہ فلاں نے یہ چیز اس کو فروخت کی ہے،اور دوسرے نے شہادت دی کہ فلاں نے اس کے پاس فروخت کرنے کا اقرار کیا ہے،تو مقبول ہوگی الخ(ت) |
(۳)حافظ جلال الدین کے لئے ان دونوں مکانوں کا ہبہ عندالشرع درست ہوگیا اور باپ کا دینا قرائن ہبہ اور تملیك کے موجود ہوتے ہوئے ہبہ ہی ماناجائے گا اور اتنی مدت دراز تك تصرف مالکانہ اور عدم تعرض والد کا واضح قرینہ تملیك ہے،لہذا شاہدین کی شہادت میں لفظ دینا ہبہ ہی پر محمول ہوگا عاریت پر نہیں ہوسکتا اور قاضی یا حکم کو شاہدین سے یہ استفسار کرنا کہ عاریۃً دیا تھا یا ہبۃً عندالشرع کوئی حق نہیں بلکہ یہ شہادت ہبہ ہی پر محمول ہوگی،ردالمحتار میں ہے:
|
وفی خزانۃ الفتاوی اذا دفع لابنہ مالا فتصرف فیہ الابن یکون للاب الااذادلت دلالۃ التملیك بیری [1]الخ۔ وفی فوائد السمیۃ صحت بمثل قولہ نحلت و وھبتہ کذالہ جعلت،اما وھبت فانہ صریح فیہ واما نحلت وھی بمعنی اعطیت فلانہ مستعمل فیہ واما جعلت لہ فلان اللام للتملیک،واﷲ اعلم بالصواب، راقم بشیر احمد عفی عنہ۔ |
خزانۃ الفتاوٰی میں ہے اگر کسی نے بیٹے کو مال دیا جس میں بیٹا باپ کی دی ہوئی اجازت سے تصرف کرتا ہو وہ مال باپ کا ہوگا مگر جب باپ کی طرف سے تملیك کا واضح قرینہ موجود ہو تو بیٹے کا تصور ہو گا،بیری الخ(ت) فوائد السمیہ میں ہے میں نے اس کو عطیہ دیا،اس کو ہبہ کیا۔یونہی اس کے لئے کردیا، میں نے اسے ہبہ کیا۔ان الفاظ سے ہبہ صحیح قرار پائیگا "وھبت"سے تو اس لئے کہ اس میں تملیك کی تصریح ہے "نحلت"سے اس لئے کہ یہ"اعطیت"(میں نے عطا کیا) کے معنی میں ہے کیونکہ یہ اسی معنی میں مستعمل ہے، لیکن "جعلت لہ"سے اس لئے کہ اس میں لام تملیك کے لئے ہے،واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب،راقم بشیر احمد عفی عنہ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع