30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو اس کا حق حاصل نہیں ہے کہ گواہان سے تفتیش کرے کہ تم کو کس سبب اور ذریعہ سے ملك فلاں ہونا ثابت ہوا،
|
ومن فی یدہ شیئ فلك ان تشھد انہ لہ ان وقع فی قلبك ذٰلك والالا [1]الخ تنویر الابصار،وفی الھدایۃ ومن کان فی یدہ شیئ سوی العبد والامۃ وسعك ان تشھد انہ لہ لان الید اقصی مایستدل بہ علی الملك اذھی مرجع الدلالۃ فی الاسباب کلہا[2]،قال فی نہایۃ انہ لا دلیل لمعرفۃ الملك فی حق الشاہد سوا الید لان اکثر مافی الباب ان یعاین اسباب الملك من الشراء ونحوہ الا ان الشراء انما یفید الملك اذاکان المبیع ملکا للبائع وذٰلك لایعرف الابالید فلو لم یجزاداء الشہادۃ بحکم الید لسد باب الشہادۃ حتی حل للقاضی ان یقضی بحکم الید کما یحل للشاہد [3]انتہی۔
|
اور اگر کوئی شیئ کسی کے قبضہ میں بطور ملکیت ہو،دل پر گزرے تو تجھے جائز ہے کہ اس چیز کی اس کے لئے شہادت دے ورنہ نہیں الخ تنویر الابصار۔اور ہدایہ میں ہے غلام اور لونڈی کے علاوہ کوئی چیز کسی کے قبضہ میں ہوتو تجھے گنجائش ہے کہ تو یہ شہادت دے کہ یہ چیز اس کی ہے کیونکہ قبضہ ملکیت کی دلیل کے لئے فیصلہ کن ہے کیونکہ یہ تمام اس باب میں دلالت کا مرجع ہے،نہا یہ میں فرمایا:گواہ کے پاس ملکیت کی معرفت کے لئے قبضہ کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ اس باب میں اکثر طور نظر آنے والے اسباب خریداری وغیر ہ ہیں لیکن خریداری بھی اس وقت مفید ملك ہے جب یہ معلوم ہو کہ مبیع بائع کی ملکیت تھا اور بائع کی ملکیت اس کے قبضہ سے ہی معلوم ہوسکتی ہے اور اگر قبضہ کی بناء ملکیت کی گواہی جائز نہ ہو تو شہادت کا دروازہ ہی بند ہوجائے،حتی کہ قاضی کو جائز ہے کہ وہ قبضہ کی بناء پر ملکیت کا فیصلہ دے جس طرح گواہ کو یہ شہادت دینا جائز ہے اھ(ت) |
(۲)یہ شہادت معتبر ہے۔
|
کما فی فوائد السمیۃ فی باب الاختلاف |
جیسا کہ فوائد السمیہ کے اختلاف شہادت کے باب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع