30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باوجود اس کے کہ سبب ملك والد صاحب نہیں بیان کرتے عند الشرع معتبر ہے یا نہیں،اگر معتبر ہے تو ناشی حکم(اس امر کا کھوج لگانا اور جرح کرنا کہ تم کو کس ذریعہ سے ملك مولا بخش معلوم ہوئی،یاتم نے بیعنامہ دیکھا ہے یا تمہارے سامنے بیع ہوئی ہے) حق حاصل ہے یانہیں؟
(۲)اور نیز حافظ جلال الدین اپنے مدعا میں ایك شہادت یہ گزرانتا ہے کہ ایك شاہد یہ بیان کرتا ہے کہ ان دکانوں کا بیعنامہ میرے سامنے ہو ااور بائع نے میرے سامنے بیع کی،اور دوسرا شاہد بیان کرتا ہے کہ مشتری نے میرے سامنے اس کی بیع لینے کا اقرار کیا کہ میں نے فلاں سے یہ دکانیں خریدی ہیں اب دریافت طلب امریہ ہے کہ یہ شہادت عند الشرع معتبر ہے یانہیں؟
(۳)حافظ جلال الدین کہتا ہے کہ ایك مکان والد صاحب نے مجھ کو ہبہ کیا تھا جس میں میں نے ان کی زندگی میں ہی چھپر کا دالان بنالیا تھا اور تقریبًا اس میں بیس پچیس سال رہا،بعد میں مجھ کو اس میں تنگی ہوئی اور دوسری دکان کرایہ پر لے کر اس صورت سے رہنے لگا کہ مکان موہوبہ میں اپنا تصرف و قبضہ مالکانہ رہا،اس کے بعد والد صاحب نے دوسرے دکان جو دکان موہوبہ سابق کے بغل میں ایك جانب کو واقع اور ملکیت میں اپنی زوجہ یعنی میری سوتیلی مادر کے تھا مجھ کو ملا کردے دیا اور مادر صاحبہ سے بھی کہلادیاکہ میں نے دے دیا جیسا میرا بیٹا نظام الدین ہے ویسا ہی جلال الدین ہے چنانچہ میں نے اس دوسری دکان کو بھی لے کر اپنے والد اور مادرکی زندگی میں اپنی سابق دکان کے ساتھ ملحق کرلئے درمیان کی دیوار نکال دی اور اس کے سامنے ہی ایك دالان بنالیا،اب سوال یہ ہے کہ عندالشرع ان دونوں دکانوں کا میرے لئے ہبہ درست ہوا یانہیں،اور میرے شاہد ان دونوں مکانوں کی بابت دینا والد صاحب اور والدہ صاحبہ کی جانب سے بیان کرتے ہیں یہ شہادت فقط دینے کی ہبہ پر محمول ہوگی یا عاریۃً پر اور اس میں قاضی یا حکم کو شاہدان سے یہ حق دریافت کرنے کا حاصل ہے یانہیں کہ دکان جلال الدین کو ہبہ دیا گیا تھا یا عاریۃً۔بینواتوجروا۔
الجواب: وباﷲ التوفیق
(۱)اگر شاہدان نے صرف اس پر اکتفاء کیا کہ یہ دکانیں مولا بخش کی ہیں اور سبب ملك نہ بیان کیا تو یہ شہادت منجملہ عند الشرع معتبر ہے او ر دکانیں مولا بخش کی ہی مانی جائیں گی اور قاضی یا حکم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع