30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ملك مدعی ثابت نہیں ہوتی،نہ کہ اب تك کہ بیع ۱۵/ نومبر کو ہوئی اور مدعی نے وقت طلب ۸/جنوری بیان کیا،ممکن ہے کہ اس بیچ میں اس کی ملك سے نکل گیا ہو اور یہاں استصحاب یعنی اس وقت ملك ثابت تھی اور زوال معلوم نہیں تو اب تك ملك مانی جائے گی کافی نہیں کہ یہ ظاہر ہے اور ظاہر حجت دفع ہے نہ کہ حجت استحقاق،اور شفیع کو منظور استحقاق ہے تو استصحاب بکار آمدنہیں۔عالمگیریہ میں ہے:
|
الظاہرلایصلح للاستحقاق فلا بدمن ثبوت مبلکہ بحجۃ لاستحقاق الشفعۃ[1]۔ |
ظاہر حال کسی استحقاق کو ثابت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو ثبوت ملکیت کے لئے اس کے پاس شفعہ کے استحقاق کی دلیل کا ہونا ضروری ہے(ت) |
اگر کہئے یہ تنقیح تو فیصلہ میں بحق مدعی فیصل ہوچکی تو اس کا جواب بھی فتوائے اولٰی مدخلہ مدعی دے گا کہ تجویز عدالت بلا دلیل وحجت ہے شرعًاہر گز قابل نفاذ نہیں۔اشباہ میں ہے:
|
والحکم اذاکان لا دلیل علیہ لم ینفذ انتہی[2]۔ |
جب حکم کی دلیل نہ ہو تو وہ نافذ نہیں ہوتا انتہی(ت) |
بالجملہ ہر وجہ ہر جہت ہر پہلو سے دعوٰی مدعی باطل اور شریعت مطہر کے حکم سے فیصلہ بحق مدعا علیہا ہونا لازم واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۱۶ تا ۱۱۸: ازضلع بجنور قصبہ نگینہ محلہ میر سرائے مسئولہ جلال الدین عطار بروز یکشنبہ ۱۴/ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام سوالات مندرجہ زیل میں:
(۱)حافظ جلال الدین و نظام الدین ولد مولا بخش بھائی علاتی ہیں ان کو ترکہ میں نزاع ہے،اول یہ کہ دو دکانیں جن میں ان کے والد نشست وبرخاست کرتے تھے حافظ جلال الدین مدعی ہیں کہ یہ ملك والد صاحب مرحوم سے ہے،اور نظام الدین کہتا ہے کہ والد صاحب کی نہیں بلکہ والدہ صاحبہ کو یہ ملی ہیں حافظ جلال الدین اپنے مدعا کے ثبوت میں منجملہ شہادتوں کے ایك شہادت حدود سے کرتے ہیں یعنی ان دکانوں کی جن کے مکانات سے حدود ملتے ہیں ان کے بیعنامہ کے حدود میں ملك والد صاحب کہتے ہیں اور لکھنے والے والد صاحب کی ملك بتلاتے ہیں،اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ یہ شہادت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع