30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گواہوں میں سے تین نے تو اس کا نام ہی نہ لیا،ننھے مرزا نے یوں کہا"مدعی جس مکان میں رہتا ہے وہ ملکیت سولہ برس سترہ برس سے گویا کہ مدعی کی اب تك ہے"گویا کو شہادت سے کیا علاقہ۔اور آگے چل کر اور بھی تخریب کردی کہ مظہر نے محلہ میں مظفرشاہ کی زبانی سنا کہ مدعی کا مکان جس میں مدعی رہتا ہے ملك کی گواہی اور ایك شخص کی سماعی،ہاں صرف برادر مدعی سید وزیر علی نے کہا ہے کہ جس مکان کے ذریعہ سے مدعی نے مکان کے شفعہ کا دعوٰی کیا ہے وہ مکان قبل بیع سے اب تك ملك مدعی میں ہے یہ شہادت بھی باطل ہے،
اولًا: ملك مکان پر شہادت کےلئے ضرور ہے کہ یا مکان حاضر کی طرف اشارہ ہو جیسا ابھی عبارت عالمگیری سے گزرا کہ:
|
ان ھذہ الدار التی بجوار الدار المبیعۃ[1]۔ |
بیشك یہ مکان جو فروخت شدہ مکان کے پڑوس میں ہے۔ (ت) |
یا غائب ہے تو اس کے حدود کا بیان ہو، عالمگیریہ میں ہے:
|
فی الشہادۃ علی المحدود لا بد من ذکر الحدود کذافی الخلاصۃ [2]۔ |
محدود چیز کےء متعلق شہادت میں اس کے حدود کو بیان کرنا ضرور ی ہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے(ت) |
یہاں دونوں مفقود،لہذا شہادت مردود۔
ثانیًا: یہ وہی گواہی سے جس میں تبدیل نام واقع ہوئی ہے جس کا بیان وجہ ششم گزرا۔
ثالثًا:کچھ نہ ہو تو تنہا ایك کی گواہی ہے ملك ثابت نہیں ہوسکتی لہذا سرے سے مبنائے شفعہ پایہ ثبوت کو نہ پہنچا اور دعوٰی بے ثبوت رہا،رہا یہ کہ خود اسی مکان متنازعہ فیہ کے بیعنامہ اسمی مدعاعلیہامیں حد شمالی مکان مولوی شجاعت علی تحریر ہے اور بیعنامہ عاقدین پر حجت ہوتا ہے لہذا یہ مدعا علیہا کی طرف سے مکان مشفوع بہ میں ملك مدعی کی تسلیم ہے ذی علم فاضل مفتی صاحب نے اسی بناء پر تنقیح بحق مدعی فیصل فرمائی مگر ہماری تقریر سابق سے واضح ہے کہ صرف وقت بیع مشفوع بہا میں ملك شفیع کافی نہیں بلکہ جب سے وقت حکم تك ملك مستمر در کار ہے بیعنامہ سے ثابت ہوا تو اتنا کہ وقت بیع مذکور مکان مشفوع بہ ملك مدعی تھا اس سے وقت طلب اول حسب بیان مدعی بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع