30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی موضع واحد فی یوم واحد ثم اختلفا فی الایام و المواطن و البلدان فان اباحنیفۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ قال انا اجیز الشہادۃ وعلیہم ان یحفظوا الشہادۃ دون الوقت وقال ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی الامر کما قال ابوحنیفۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ فی القیاس وانا استحسن وابطل ھذہ الشہادۃ بالتھمۃ الاان یختلفا فی الساعتین من یوم واحد فیجوز کذا فی فتاوٰی قاضیخان[1] (ملتقطًا) |
جب دونوں یہ کہہ چکے ہوں کہ ہم دونوں ایك جگہ ایك وقت میں طالب کے ہمراہ تھے پھر اس کے بعد ایام،مقامات اور شہروں کا اختلاف بیان کریں تو امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں میں اس شہادت کو جائز قرار دوں گا کیونکہ گواہوں کے ذمہ اصل شہادت کو محفوظ کرنا ہے نہ کہ وقت کو،اور امام ابویوسف فرماتے ہیں کہ امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ارشاد قیاس کے مطابق ہے میں استحسان کرتا ہوں اور میں اس شہادت کو تہمت کی بناء پر باطل کہتا ہوں،ہاں اگر دونوں کا اختلاف صرف ایك دن میں مختلف گھنٹوں کے متعلق ہو تو شہادت جائز ہوگی،فتاوٰی قاضیخان میں یونہی ہے۔(ملتقطا)۔(ت) |
ثانیًا: اعتراض دوم عجیب منطق ہے اس شہادت میں موجب و مخبر کی تردید کیسی،شہادت ہمیشہ مخبر ہی ہوتی ہے اس کی تعریف ہی میں اخبار بحق،داخل ہے اور مخبر بہ صرف قول مدعا علیہا ہونے سے ایراد اس سے بھی عجیب تر،مخبربہ ہمیشہ دعوی ہوتا ہے اور دعوٰی ہمیشہ قول صرف مدعی۔اسی کے اثبات کے لئے شہادت ہوتی ہے شہادت سے پہلے اس کا ثبوت درکار ہوتو شہادت لغوہے کہ امر ثابت کیا محتاج اثبات ہے اور اگر یہ مقصود کہ اس کا دعوٰی اور ان کا بیان زمانًا مختلف ہے تو یہ وہی پہلا اعتراض ہے جس کا رد ہوچکا۔
ثالثًا: یہی حال تعارض کا ہے نفس تسلیم میں دعوائے مدعا علیہا وجملہ شاہدان مدعا علیہا متفق ہیں،اختلاف اگر ہے تو زمانہ کا،اور وہ قول محض میں مضر نہیں ہے۔عالمگیری میں ہے:
|
شھدا ان فلانا طلق امرأتہ فشھد احدھما انہ طلقھا بالبصرۃ والاٰخر انہ طلقھا بالکوفۃ،لو شھدا بذٰلك فی یومین متفرقین من الایام |
دونوں گواہوں نے شہادت دی کہ فلاں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے ایك نے کہا بصر ہ میں دوسرے نے کہا کوفہ میں دی ہے،اگر دونوں نے متفرق دنوں کی بات کی ہے جن میں کوئی شخص اپنی سواری |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع