30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سید اچھے میاں شروع جنوری روز جمعہ کو مدعی کا یہ کہنا بیان کرتے ہیں اور خود مدعا علیہا ۱۵نومبر ہی کو وقوع تسلیم بتاتی ہے اب بیان گواہان کو موجب تسلیم مانیے یا تسلیم گزشتہ کی خبر۔برتقدیر اول جبکہ حسب بیان مدعا علیہا شفعہ ۱۵نومبر کو تسلیم و ساقط ہوچکا تھا،پھر دسمبر و جنوری میں مکرر سقوط کیسا،الساقط لایعود(ساقط شدہ بحال نہیں ہوتا۔ت)بر تقدیر ثانی خبر کےلئے مخبر بہ کا ثبوت لازم،مخبربہ قول مدعا علیہا ہے بیان گواہان سے جس کا ثبوت نہیں لہذا یہ خبر تسلیم مثبت تسلیم نہیں۔
ثالثًا: مدعا علیہا ۱۵ / نومبر کو تسلیم بتاتی ہے گواہ بعد کو،تو دونوں بیان متعارض ہوکر ساقط ہوں گے اور حق شفعہ جو طلبین سے مستقر ہوچکا ہے ثابت رہے گا۔قاضیخاں میں ہے:
|
المدعی اذااکذب الشھود فی ماشھدوالہ اوفی بعضہ لاتقبل شہادتھم[1]۔ |
مدعی جب گواہوں کو اپنے حق میں کل بیان یا بعض کو جھٹلادے تو شہادت قبول نہ ہوگی(ت) |
یہ حاصل ہے تمام تطویل فتوائے ثانیہ کا،بلکہ زیادت ضبط و ایضاح کے ساتھ،مگر افسوس کا محل ہےکہ اس میں ایك حرف بھی صحیح نہیں،
اولًا:مدعی علیہا کا دعوی تسلیم شفعہ بعد العلم بالبیع ہے اس کے سوا تعیین وقت نہ اس کے دعوٰی کا حقیقۃً جز ہے نہ مدار،نہ اس کے بیان کی حاجت نہ اس میں اختلاف سے مضرت،تسلیم یہاں بالقول ہوئی،اور قول قابل تکرر ہے،اور شہود ایك جلسہ خاصہ کا بیان نہیں کرتے بلکہ صراحۃً جدا جلسوں کا ذکر کرتے ہیں،قول محض میں اگر شہادتیں یا شہادت و دعوٰی دربارہ زمانہ ایسا اختلاف کریں اصلًا کچھ مضر نہیں،نہ ہر گز اسے شہادت ودعوٰی یاباہم دو شہادتوں کی عدم مطابقت کہہ سکیں،عالمگیری میں ہے:
|
ان کان المشہود بہ قولا محضا کالبیع والاجارۃ و الطلاق والعتاق و الصلح والابراء،واختلفا فی البلدان او فی الشہود جازت شھادتھما ولا تبطل الشہادۃ باختلاف الشاھدین فی الایام والبلدان الاان یقولا کنامع الطالب |
جس چیز کی شہادت ہے وہ اگر خالص گفتگو ہے مثلًا بیع،اجارہ، طلاق،عتاق،صلح اور بری کرنا جن کا تعلق زبان سے ادائیگی کے ساتھ ہے،اور گواہوں نے ان امور میں علاقے یا مہینے کے بیان میں اختلاف کیا تو دونوں کی شہادت قبول ہوگی،اور دونوں گواہوں کا ایام،شہروں کا اختلاف شہادت کو باطل نہ کرے گا،مگر اس صورت میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع