30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالف وانہ قد قضاہ خمسمائۃ وقال الطالب لی علیہ الف وما قضانی شیئا والشہود او ھموا فی الشہادۃ علی القضاء تقبل شہادتھما ان عدلا،ولو قال شہادتھم بالالف حق وبالقضاء باطل لاتقبل شہادتھما لانہ نسبھما الی الفسق کذافی المحیط[1] (ملتقطا) |
ذمہ ہزار کی گواہی دی اور کہا کہ پانصداس نے ادا کردئے ہیں جبکہ مدعی کہتا ہے کہ میرا اس کے ذمہ پورا ہزار ہے ابھی اس نے کچھ بھی ادا نہیں کیا اور گواہوں کو ادائیگی کے متعلق شہادت میں وہم ہوا ہے تو ان کی شہادت قبول ہوگی بشرطیکہ دونوں گواہوں کو عادل قرار دیا گیا ہو،اور اگر طالب یعنی مدعی نے کہا ان گواہوں کی ہزار کے متعلق گواہی حق ہے اور ادائیگی کے متعلق شہادت باطل ہے تو گواہوں کی شہادت مقبول نہ ہوگی کیونکہ اس صورت میں اس نے گواہوں کی نسبت فسق ظاہر کیا ہے،محیط میں ایسے ہی ہے(ملتقطًا۔(ت) |
مگر نہ جانا کہ صورت عالمگیری کو یہاں سے کچھ علاقہ نہیں جب مدعی ہزار روپے کا مطالبہ بتاتا ہے اور گواہ کہتے ہیں ہزار تھے پانسو ادا ہوچکے ہیں تو وہ صراحۃً ہزار کے مطالبہ کو غلط اور صرف پانسو کامطالبہ بتارہے ہیں اسے مشہود بہ سے خارج ماننا عجیب ہے۔
سوم: یہاں تك فتوائے اولٰی کے حرف حرف پر کلام ہولیا اب دوسرا سنئے:
فتوائے ثانیہ مدعی کا خلاصہ یہ ہے کہ:
اولًا: مدعا علیہ کا بیان تھا کہ ۱۵/نومبر یعنی تاریخ بیع ہی میں مدعی کو علم بیع ہوا،مدعی شریك مشورہ تھا،اس نے بعد البیع تسلیم کی ان میں پہلے دو فقرے کسی گواہ مدعا علیہا نے بیان نہ کئے تو شہادت مطابق دعوٰی نہیں لہذا نامقبول،عینی میں ہے:
|
موافقۃ الشہادۃ للمدعی ان تتحد انواعا وکما و زمانا[2]۔ |
مدعی کے لئے شہادت کی موافقت یوں ہے کہ وہ نوع، مقدار اور زمانہ کے اعتبار سے متفق ہوں۔(ت) |
ثانیًا گواہان مدعا علیہا میں محمد سعید خاں،محمد صدیق علی خاں جن کی شہادت ۲۳/اپریل کو ہوئی اس وقت چار مہینے پہلے مدعی کا وہ قول بتاتے ہیں کہ مکان اچھی بیگم نے مول لیا،میں خوش ہوا،تو حساب سے اس قول کا وقت اواخر دسمبر آتا ہے اور منور حسین خاں،محمد شاہ خاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع