30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہا تھا کہ عدالت کو بھی تسلیم ہے ہم نے فیصلہ میں کہیں اس کی صریح تسلیم نہ پائی بلکہ جواب وہ دیا ہے کہ برتقدیر وقوع بھی شہادت سے دفع مضرت کرے جس کا بیان عنقریب آتا ہے بہرحال یہ اعتراض گواہ مدعی احسان خاں بلکہ ننھے مرزا پر بھی ہے ان کے کلام میں بھی تناقص ہے ننھے مرزانے کہا مظہر گل نورخاں کے چبوترہ پر قریب مکان متنازعہ بیٹھا ہوا تھا اس کو عرصہ کوئی ڈھائی مہینہ کا ہوا پھر کہا مظہر چبوترہ کے نیچے بیٹھا تھا اور آدمی چبوترہ پر تھے اسے اگر استدراك ہی کہئے تو احسان خاں نے اولًا کہا جب سے مظہر اس جلسہ میں آیا اور جب تك گیا مظہر سے کسی کی بات نہ ہوئی،بعد کو لکھایا مظہر گل نورخاں سے باتیں کررہا تھا یہ ضرور تناقض ہے اور تناقض میں کذب سے مفر نہیں کہ دونوں باتی سچی نہیں ہوسکتیں، عالمگیری میں مبسوط سے ہے:
|
لم تقبل شہادتھما لانا نتیقن بکذب احدھما[1]۔ |
دونوں کی گواہی قبول نہ ہوگی دونوں میں سے ایك کے جھوٹا ہونے کا ہمیں یقین ہے۔(ت) |
فیصلہ نے منور حسین خاں کی طرف سے وہ جواب دیا کہ وہی احساں خاں اور ننھے مرزا پر سے اس اعتراض کا جواب ہوتا یعنی یہ امر صلب شہادت سے خارج ہے اور شرعًا نقص غیر مشہود بہ مضر شہادت نہیں اور اس پر یہ عبارت شرح وقایہ تحریر فرمائی:
|
الاکذاب فی غیر المشھود بہ لا یمنع القبول [2]۔ |
مشھود بہ کے غیر میں جھٹلانا قبولیت کے لیے مانع نہیں ہے۔(ت) |
یہ عبارت اگر چہ چنداں متعلق نہ ہو کہ کلام کذب میں ہےنہ اکذاب میں بلکہ اس کےلیے یہ عبارت خلاصہ وہندیہ ہے کہ:
|
التناقض فیما لایحتاج الیہ لایضر[3]۔ |
غیر ضروری معاملہ میں تناقض مضر نہیں ہے۔(ت) |
مگر فتوائے مدعی نے خود بھی کذب واکذاب میں فرق نہ کرکے اس کا یہ رد کیا کہ بصورت منسوب ہونے گواہ کے صریح جھوٹ کے ساتھ گواہی اس کا نامقبول ہے خواہ یہ لغو بیانی اس کی مشہود بہا سے خارج ہویا نہ ہو اور اس پر عبارت عالمگیری پیش کی:
|
فی العیون،شہد الرجلان علی اٰخر |
عیون میں ہے کہ دو گواہوں نے ایك شخص کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع