30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یحتاج الٰی تسمیۃ الشہود اسم المیت واسم الغائب واسم ابیہما[1]۔ |
گواہوں کے نام اور میت اور غیر حاضر اور ان کی ولدیت کے نام ضروری ہیں۔(ت) |
اس کا ظاہر یہ ہے کہ بیان ولدیت ضرور ہے جس سے چاروں گواہان مذکورہ مدعی کے بیان بھی خالی ہیں مگر یہاں کارروائی اور ہے فتوے نے ناقص عبارت نقل کی اور اس کا تتمہ کہ مضر جملہ شاہدان مذکور مدعی تھا چھوڑ دیا اس کے بعد عبارت عالمگیری یوں ہے:
|
واسم جد ھما شرط الخصاف ذکر الجد للتعریف وھکذا ذکر فی الشروط،ومن مشائخنا من قال ھذا قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمہمااﷲ تعالٰی اما علی قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی فذکر الاب یکفی کذافی الذخیرۃ،والصحیح ان النسبۃ الی الجد لابد منھا کذافی البحر الرائق[2]۔ |
یعنی غیر مشہور شخص کہ حاضر نہیں ضرور ہے کہ اس کا نام اس کے باپ کا نام اس کے دادا کا نام گواہ لیں امام خصاف نے تعریف کیلئے دادا کاذکر شرط فرمایاہے کہ ایسا ہی کتاب الشروط میں ہے اور ہمارے بعض مشائخ نے کہا کہ دادا کا نام لینا ضروری ہونا حضرت سیدنا امام اعظم وامام محمد رحمہما اﷲ تعالٰی کا قول ہے،امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کے نزدیك باپ کا نام کافی ہے ایسا ہی ذخیرہ میں ہے اور صحیح یہ ہے کہ دادا کا نام لئے بغیر چارہ نہیں ایسا ہی بحرا لرائق میں ہے۔ |
یہاں تك عالمگیری کی پوری عبارت تھی جس میں صرف باپ کے نام تك نقل فرماکر باقی چھوڑی اب اگر ولدیت کی حاجت نہ بھی ہو تو عبارت مذکورہ کا صاف ارشاد ہے کہ ایك تقیید کافی نہیں دو ضرور ہیں یہی ہمارے امام مذہب کا مذہب ہے اور یہی صحیح ہے تو ان گواہان مدعی نے کہ فقط مدن میاں کی بی بی اچھی بیگم نے کہا ایك ہی تقیید ہوئی اور تعیین کے لئے ناکافی ہو کر صحیح مذہب امام اعظم میں شہادتیں مردود ہوئیں جب آدمی اور اس کے باپ کا نام کافی نہیں کہ دو تك شرکت نادر نہیں،ممکن کہ اور شخص بھی اس نام کا ہو جس کا باپ بھی اس کے باپ کا ہمنام ہو لہذا نام جد ضرور ی ہے عورت اور اس کے شوہر کا نام کیوں کافی ہونے لگا،یہاں بھی ممکن کہ اور عورت بھی اس نام کی ہو جس کا شوہر بھی اس کے شوہر کے ہمنام ہو،لہذا تقیید دیگر بھی ضروری ہے رہے سید وزیر علی،انہوں نے ضرور دو نام لئے شوہر کے ساتھ اچھی بیگم کے باپ کا نام ایوب شاہ بھی بتایا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع