30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں بحث ہے،خود اسی عبارت عالمگیری میں تسلیم صریح اما یجری مجراہ میں فرمایا:
|
سواء علم بالبیع اولم یعلم ان کان بعد البیع[1]۔ |
بیع کے بعد ہو تو بیع کا علم ہو یا نہ ہو برابر ہے۔(ت) |
اور دلالۃً میں فرمایا:
|
لایسقط حقہ ثمہ الابعد العلم[2]۔ |
وہاں حق ساقط نہ ہوگا مگر علم کے بعد۔(ت) |
وجہ پنجم:فتوے نے گواہ ہندہ سید اچھے میاں کی شہادت پر یہ اعتراض کیا کہ تعیین و تعریف مدعی و مدعا علیہ کی کرنا گواہ پر ضروری ہے بلا اس کے گواہی نامعقول ہے اور تعریف و تعیین بصورت موجودگی مدعی و مدعا علیہ وقت ادائے شہادت اشارہ سے چاہئے یہ یہاں مقصود ہے اور اس پر عالمگیری کی عبارت پیش کی۔گواہ کے لفظ یہ ہیں:"اس میں پیارے میاں صاحب مدعی حاضر عدالت نے فرمایا یہ مکان تم نے اچھی بیگم کے نام خریدا ہے مناسب ہے"۔اگر مدعی کا نام اور یہ صفت کہ مدعی اور یہ وصف کہ حاضر عدالت ان تینوں کا اجتماع تعیین و تعریف کے لئے کافی نہیں بلکہ بوجہ حضور مدعی خاص اشارہ ہی لازم تھا تو مدعی کے پانچوں گواہوں میں بعینہ یہی حالت ہے ایك نے بھی مدعی کی طرف اشارہ نہ کیا سب نے پیارے میاں مدعی حاضر عدالت ہی کہا ہے یا برادر مدعی سید وزیر علی نے اتنا اور بڑھایا جن کو شجاعت علی کہتے ہیں تو ثابت ہوا کہ بحکم فتوائے مدخلہ مدعی پانچوں گواہان مدعی کی گواہیاں مردود ہیں۔
وجہ ششم:دوسرااعتراض اسی گواہ پر عدم تعیین مدعا علیہا سے کیا کہ بصورت عدم موجودگی عام آدمی کی تعیین ولدیت وغیرہ سے چاہئے تھی وہ بھی متحقق ان کے بیان میں نہیں ہے لہذا شہادت ان کی شرعا ہرگز قابل قبول نہیں اس پر بھی وہی عبارت عالمگیری سند ہے یہاں اتنا فرق ضرور ہے کہ سید اچھے میاں نے صرف اچھی بیگم کہا اور گواہان مدعی سوائے سید وزیر علی کے بیان میں بھی اگرچہ اچھی بیگم کی ولدیت مذکور نہیں مگر خبر وطلب یعنی شاہ علی حیدر کےاخبار اور مدعی کے طلب شفعہ میں بیان زوجیت ہے مخبر نے کہا مکان مدن میاں کی بی بی اچھی بیگم نے مول لیا الخ مدعی نے کہا جس قیمت کو یہ مکان مدن میاں کی بیوی اچھی بیگم نے مول لیا، فتوٰی میں یہ عبارت عالمگیری اس لفظ تك نقل فرمائی:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع