30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتوٰی چاہا اس پر فیصلہ واظہارات جملہ گواہان فریقین کی نقول باضابطہ لانے کا حکم ہوا،سائل نے نقول حاصل کیں اور حسب الحکم مع نقل ہر دو فتوائے مدخلہ مدعی حاضر دارالافتاء ہیں امید کہ بعد ملاحظہ حکم شرعی سے خالصًا لوجہ اﷲاطلاع عطا ہو۔بینوا توجروا۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب نقول مذکورہ مطلوبہ دارالافتاء مدخلہ سائل ملاحظہ ہوئیں باضابطہ نقلیں اس لئے طلب کی تھیں کہ تجربہ سے سائلوں کا خلاف روداد اظہار کرکے فتوٰی لینا ثابت ہولیا تھا جس میں سراسر اضاعت وقت دارالافتاء تھی، فیصلہ و اظہارات کا ملاحظہ بنگاہ اولین بتاتا ہے کہ مدعی اپنے دعوٰی شفعہ کو بروجہ شرعی ثابت کرنے میں محض ناکام رہا،عند الشرع دعوٰی واجب الرد ہے جیسا کہ ذی علم فاضل مفتی نے کیا۔تمام ابحاث کہ دونوں فتووں میں ظاہر کی گئیں ان پر فردًا فردًا نظر اور ہر باطل کا ابطال مستقل ایك وقت چاہتا تھا مگر ہر دو فتوے مدخلہ مدعی خود ہی رد دعوٰی کوکافی و وافی ہیں ان سے زیادہ ثبوت کی حاجت نہیں کہ وہ خود مسلمہ مدعی ہیں لہذا انہیں وجوہ مقبولہ مدعی ومفتیان مدعی سے بطلان دعوٰی ثابت کرکے صرف ایك وجہ شرعی اور اضافہ کریں جس کی طرف فیصلہ میں بھی توجہ مبذول نہ ہوئی۔
وجہ اول:پہلے فتوے میں گواہ ہندہ سید ابو القاسم پر یہ اعتراض ہے کہ اس کے بیان میں مدعی بہا کا تعین نہیں،مدعی بہا عــــــہ یہاں مکان ہے اس کی تعیین کے دو طریقے ہیں:ایك نشان دہی،دوسرے بیان حدود۔دونوں اس کے بیان میں نہیں،ایسی حالت میں گواہی کیونکر مقبول ہوسکتی ہے،اورا س پر قاضی خاں کی تین عبارتیں پیش کیں،سید ابو القاسم کے بیان میں وعدہ نشان دہی ہے کہ مکان کو موقع پربتادوں گا۔پانچوں گواہان مدعی نے بھی صرف وعدہ نشان دہی کیا ہے،جب وہ کافی نہیں تو مدعی کی پانچوں گواہیاں مدعا بہا سے خالی اور واجب الرد و نا مقبول ہوئیں کہ ان میں نہ بیان حدود ہے نہ نشاندہی،بلکہ رحمت علی خاں نے صراحۃً کہا ہے مظہر حدیں مکان متنازعہ کی نہیں بتاسکتا،مظہر حدیں دیکھنے نہیں گیا تھا،گواہیوں میں وقت طلب شفعہ جانب مکان اشارہ مدعی کا بیان نہ گواہ کا اشارہ ہوا نہ بیان حدود۔مدعی نے اس وقت اشارہ کیا ہو گواہ تو نہیں بتاتے کہ وہ کون سا مکان ہے جس کی طرف اشارہ کرکے طلب مواثبت کی تھی فتوی مدعی کو تسلیم ہے کہ اسکی
عــــــہ: فتوے میں ہر جگہ یہ لفظ متدعویہ ہے کہ محض مہمل و بے معنٰی ہے۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع