30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتووں کا حیلہ سکھائے گا کہ اتنے مولوی حلال کررہے ہیں عذاب ہے تو ان کی گردن پر،مگر جب آپ حضرات خود ہی خوف خدا کرکے حق حکم ان پر ظاہر کریں گے تو کیا عجب کہ اﷲ عزوجل اپنے بندوں کو حرام مال سے بچنے اور وقف خدا پر تصرف نہ کرنے کی توفیق بخشے اور جب وہ رئیس جاگیر دار ہیں تو شائد اسی پر ان کا ذریعہ رزق منحصر نہ ہو اور ہو تو رزق اﷲ عزوجل کے ذمہ کرم پر ہے حرام کھانے سے فاقہ لاکھ جگہ بہتر ہے اور اس میں حکام کی کچھ مخالفت نہیں جس پر ڈگری ہو وہ مجبور کیا جاتاہے جس کی ڈگری ہو اگر خدا سے ڈرے اور اس مال کو چھوڑدے حکام کو ہر گز اس سے تعرض نہ ہوگا۔کیا اچھاہو کہ روز قیامت اﷲ واحد وقہار کے حضور کھڑے ہونے سے ڈریں اور قلیل وذلیل و فانی مال چھوڑ کر جلیل و جزیل و باقی ثواب لیں۔بہر حال مفتی و مصدقین پر اپنے فرض سے ادا ہونا فرض ہے یہ محض خالص اسلامی عرض ہے۔دیکھیں کون بندہ خدا سبقت کرتا اور رضائے الٰہی و ثواب عقبٰی و ثنائے دنیا کا مستحق ٹھہرتا ہے،اﷲ عزوجل توفیق دے،
|
فَسَتَذْکُرُوۡنَ مَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمْ ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیۡۤ اِلَی اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ بَصِیۡرٌۢ بِالْعِبَادِ ﴿۴۴﴾ "[1]وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔ |
تو عنقریب یاد کروگے جو تمہیں کہہ رہا ہوں،میں اپنا معاملہ اﷲ تعالٰی کے سپرد کرتا ہوں۔تحقیق اﷲ تعالٰی بندوں کو دیکھتا ہے،ہم کو اﷲ تعالٰی کافی ہے۔(ت) |
وصلی اﷲ تعالٰی وبارك وسلم علٰی سیدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین اٰمین والحمدﷲ رب العالمین،واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔
مسئلہ ۱۱۵: ازریاست رامپور محلہ لال قبر مرسلہ سید احمد حسن صاحب ۲۷شوال المکرم ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ ہندہ نے ۱۵/ نومبر ۱۹۱۴ء کو ایك مکان خریدا،۱۷/ جنوری ۱۹۱۵ء کو زید نے اس پر دعوی شفعہ کیا اور ۸/ جنوری کو علم بیع ہونا اور اسی وقت طلب مواثبات واشہاد بجالانابیان کیا اور اس پر پانچ گواہ دئیے ہندہ نے سات گواہ تسلیم شفعہ کے پیش کئے حاکم نے ان گواہوں پر اعتماد فرماکر دعوٰی رد کردیا مدعی نے اپیل کی اور گواہان ہندہ پر بہت سی جرحیں نکالیں اور ان کے متعلق دو فتوے داخل کئے،سائل نے بریلی دارالافتاء سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع