30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خود فتوے نے تسلیم کیاہے کہ احکام قانونی شرعًا وہی مفید ہیں جو مطابق شرع ہوں نامسلم تو نامسلم خود قاضیان اسلام بلکہ سلاطین اسلام اگر کوئی چیز زید کو برخلاف حکم شرع دلادیں وہ ہر گز اس کے لئے حلال نہ ہوجائے گی احکام سلاطین دنیا تك ہیں آخرت میں کام نہیں آسکتے،سلاطین درکنار خود صاحب شریعت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
انکم تختصمون الی فلعل بعضکم ان یکون الحن بحجتہ من بعض فاقضی لہ علی نحومما اسمع فمن قضیت لہ بحق مسلم فانما ھی قطعۃ عن النار فلیأخذھا او لیترکھا[1]۔رواہ الائمۃ مالك واحمد و الستۃ عن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔ |
صاف ارشاد فرمایا کہ ایك اگر اپنی چرب زبانی کے باعث حجت میں بازی لے جائے اور ہم اسے ڈگری دے دیں اور واقع میں اس کاحق نہ ہو تو ہماراڈگری فرمانا اسے مفید نہ ہوگا وہ مال نہیں اس کے حق میں جہنم کی آگ کا گڑھا ہے چاہے اسے لے یا چھوڑ دے(اسکو امام مالک،احمد اور ائمہ صحاح ستہ نے ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا ہے۔ت) |
مفتی و مصدقین پر فرض ہے کہ جس طرح اپنے غلط فتوے سے یہ آتش دوزخ کاٹکڑا ورثہ کو دلایا یونہی اپنی صحیح ولوجہ اﷲ کوششوں سے انہیں اس سے بچانے کی فکر کریں ورنہ انما علیك اثم الاریسیین(کاشتکاروں کا گناہ تجھی پر ہے۔ت)اﷲ واحد قہار سے ڈریں اور "وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَہُمْ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِہِمْ ۫ وَ لَیُسْـَٔلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَمَّا کَانُوۡا یَفْتَرُوۡنَ ﴿٪۱۳﴾ "[2] (اور وہ اپنا بوجھ اور اپنے بوجھ کے ساتھ مزید بوجھ اٹھائیں گے،اور ضرور ان سے قیامت کے روز ان کی افتراء بازی پر سوال ہوگا۔ت)کی جانگزا آفت سے پرہیز کریں۔یہ ضرور ہے کہ بہت ابنائے دنیا کو ملا ہوا مال چھوڑنا سخت دشوار بلکہ ناممکن ہوتا ہے مگر زمانہ اﷲ کے ڈر والے بندوں سے خالی نہیں اور نصیحت نفع دیتی ہے " وَّ ذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنۡفَعُ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۵۵﴾ "[3] (آپ یاد دہانی کرائیں تو بیشك یاد دہانی مومنوں کو نفع دے گی۔ت) ابلیس کہ دشمن راہ خدا ہے دوسروں کے بتانے میں آپ کے باطل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع