30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اﷲ بیننا وبین قضاۃ زماننا افسدوا علینا دیننا و شریعۃ نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لم یبق منھم الاالاسم والرسم اھ [1]۔ |
انہوں نے ہمارا دین اور ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شریعت کو فاسد کیا اب ان میں دین و شریعت کا صرف نام ورسم باقی ہے اھ۔(ت) |
سبحان اﷲ! ائمہ کرام وعلمائے اعلام تو اسلامی سلطنتوں میں مسلمان سلاطین کے مسلمان قضاۃ میں یوں فرمائیں،بعض حیران ہوں کہ ان کو کیونکر قاضی شرعی مانا جائے بعض تصریح فرمائیں کہ وہ قاضی نہیں پنچ ہیں پھر اسے بھی رد فرمادیں کہ پنچ کہنا بھی ٹھیك نہیں انہیں قاضی ضرورت ماننا جیسا کہ علامہ شامی کا اس عبارت میں خیال تھا بعض شافعیہ کا قول کہیں سلف صالح سے نقل کریں کہ قاضی شرعی کبریت احمر سے بھی زیادہ نادر ہے یہاں یہ حکم بالجزم ہے کہ اگرچہ نامسلم سلطنت ہواگرچہ نامسلم حکام ہوں سب قاضی شرعی ہیں فسبحن مقلب القلوب والابصار۔
بست ودوم: اس ضرورت سے ائمہ غافل نہ تھے،مقدمہ ہفتم دیکھو کہ خود محرر مذہب امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس صورت ضرورت کو ذکرفرمایا اور اس کا علاج بتایا جسے ہم نے موافق قانون وقت کر دکھایا،پھر زعم ضرورت کی کیا گنجائش رہی اور محض باتباع ہوا مخالفت قرآن و تبدیل شریعت واقع ہوئی والعیاذ باﷲ رب العٰلمین۔
بست وسوم:جب خاص جزئیہ کتب مذہب اور خود ارشادات محرر مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں صاف صاف بالتصریح موجود تھا تو اس کے خلاف اور تمام نصوص کے خلاف اورخود قرآن عظیم کے خلاف مفتی کو اجتہاد لایعنی و قیاس بے معنی کے کیا معنی،اور ایسی جگہ ھذا مااستقرعلیہ رائی(میری رائے اسی پر قائم ہوئی ہے۔ت)کی صدا لگانی کس نے مانی۔
بست وچہارم:بالفرض تصریح جزئیہ نہ بھی ہوتی تو اجتہاد کی لیاقت کس گھر سے آئی۔
بست و پنجم:اینہم بر علم تو نص قرآنی کے مقابل اجتہاد کیسا۔
بست و ششم:بفرض باطل کوئی جزئیہ نادرہ شاذہ ہوتا بھی تو ظاہر الروایۃ و نصوص متواترہ تصریحات متظافرہ اور خود آیات متکاثرہ کے مقابل مردود ہوتا اور اس پر فتوی دینا حسب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع