30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الرفع لیس علی وجہ التحکیم بل علی اعتقاد انہ ماضی الحکم وحضور المدعی علیہ قد یکون بالاشخاص والجبر فلا یکون حکما،الاتری ان البیع قد ینعقد ابتداء بالتعاطی لکن اذا تقدمہ بیع باطل او فاسد و ترتب علیہ التعاطی لاینعقد البیع لکونہ ترتب علی سبب آخر فکذاھنا،ولہذا قال السلف القاضی النافذ حکمہ اعزمن الکبریت الاحمراھ قال ط و بعض الشافعیۃ یعبرعنہ لانہ قاضی ضرورۃ اذ لایوجد قاض فیما علمناہ من البلاد الاوھو راش و مرتش اھ وانظر ماقدمناہ اول القضاء[1]۔ |
اعتراض کہ ان کے ہاں دعوٰی ثالثی کی بناپر نہیں ہوتا بلکہ اس اعتقاد پر کیا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ لازم ہوگا اور ان کے ہاں مدعا علیہ کی حاضری عملہ کے ذریعہ اور جبرًا ہوتی ہے تو ثالث نہ ہوئے۔آپ دیکھتے نہیں کہ دستی تبادلہ سے ابتداءً بیع ہوجاتی لیکن جب پہلے یہ بیع باطل یا فاسد ہوچکی ہو تو اس کے بعد یہ دستی تبادلہ بیع نہیں بن سکتی کیونکہ اب یہ ایك ا ور سبب پر مرتب ہے تو یہاں بھی معاملہ ایسا ہے اور اسی وجہ سے سلف نے فرمایا کہ ایسا قاضی جس کا حکم نافذ ہوتا ہو بہت کم ہے اھ طحطاوی نے کہا اور بعض شافعی حضرات نے اس کو یوں تعبیر کیا ہے کہ یہ ضرورت کی بناء پر قاضی ہیں اس لئے کہ ہمارے معلومات میں تمام بلاد کے قاضی رشوت لینے اور دینے والے ہیں اھ،جو ہم نے قضاء کے باب کی ابتداء میں بیان کیا ہے اسے دیکھو۔(ت) |
بست ویکم:بلکہ یہیں اس کے متصل یہ عبارت تھی:
|
وفی الحامدیۃ عن جواھر الفتاوٰی قال شیخنا واما منا جمال الدین البزدوی انا متحیر فی ھذہ المسألۃ لااقدران اقول تنفذ احکامھم لما اری من التخلیط والجھل والجرائۃ فیہم،ولااقدران اقول لاتنفذ لان اھل زماننا کذٰلك فلو افتیت بالبطلان ادی الٰی ابطال الاحکام جمیعا یحکم |
اور حامدیہ میں جواہر الفتاوٰی سے منقول ہے کہ ہمارے شیخ اور امام جمال الدین بزدوی نے فرمایا میں اس مسئلہ میں حیران ہوں،نہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کے حکم نافذ ہیں کیونکہ فیصلوں میں انکی جہالت،جرأت اور خلط دیکھ رہا ہوں اور نہ ہی یہ کہہ سکتا ہوں کہ نافذ نہیں ہیں کیونکہ ہمارے اہل زمانہ اسی طرح ہیں اگر میں باطل ہونے کا فتوٰی دوں تو اس سے تمام فیصلوں کا باطل ہونا لازم آتا ہے،اﷲ تعالٰی ہی ہمارے اور زمانہ کے قاضیوں کے درمیان فیصلہ فرمائیگا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع