30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بتقدیم الافضل فی العلم والدیانۃ والعدالۃ[1]۔ |
اور عدالت میں جو افضل ہو اس کو ترجیح دی جائے۔(ت) |
اس پر اسی ردالمحتار میں ہے:
|
ھذا کان فی زمنہ وقد وجد التساوی فی عدمھا الآن فلینظر من یقدم[2]۔ |
یہ ان کے زمانہ میں تھا حالانکہ اب عدم عدالت میں سب مساوی ہیں تو اب ترجیح میں غور کرنا ہوگا۔(ت) |
مفتی ابو السعود دسویں صدی ہجری کے آخر میں تھے ۹۸۲ھ میں انتقال فرمایا،جب ان کے زمانہ تك تمام قاضی ظاہر العدالۃ تھے تو زمانہ امام اجل بزدوی میں کہ ان سے پورے پانسو۵۰۰ برس پہلے تھا سب رشوت خوار کیسے ہوئے۔
نوزدہم:اپنے زمانے تیرھویں صدی کی نسبت جو علامہ شامی نے لکھا وہ بھی محل نظر ہے قضاۃ اگر محصول سلطنت کے لئے لیتے تھے جیسے یہاں کورٹ فیس لی جاتی ہے تو وہ رشوت قاضی کیونکر ہوسکتی ہے اور اگر اپنے ہی لئے لیتے تھے جب بھی حدرشوت میں اس کا آنا مشکل کہ یہ محصول عام طور پر لیا جاتا ہے نہ کہ خاص اس فریق سے جس کے موافق فیصلہ دینا ہےاور رشوت کسی کاکام بنانے کےلئے لی جاتی ہے نہ کہ مطلق،یوں ہی اجرت، تو وہ لینا محض ایك غصب ہوگا جو فسق ہے اور فسق مانع نفاذ نہیں۔
بستم:فتوے میں یہ عبارت علامہ شامی فکذا یقال ھنا[3] (یہاں بھی یوں کہا جائے گا۔ت)تك نقل کی اس کے متصل انہوں نے فرمایا:وانظر ما سنذکرہ فی اول باب التحکیم[4] اسے دیکھو جو ہم شروع باب تحکیم میں ذکر کریں گے،اسے چھوڑ دیا،
شروع باب تحکیم میں یہ فرمایا ہے:
|
تنبیہ:فی البحر عن البزازیۃ قال بعض علمائنا اکثر قضاۃ عھدنا فی بلادنا مصالحون لانھم تقلدو القضاء بالرشوۃ ویجوز ان یجعل حاکما بترافع القضیۃ واعترض بان |
تنبیہ:بزازیہ سے بحر میں فرمایا،بعض علماء نے فرمایا ہے کہ ہمارے علاقہ کے اکثر قاضی حضرات اس زمانہ میں ثالث ہیں کیونکہ انہوں نے رشوت کے ذریعہ تقرری حاصل کی ہے ان کے ہاں مقدمہ پیش کرنے پر ان کا ثالثی فیصلہ قرارپائے گا اور یہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع