30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام کرکے جمعہ پڑھ لیں گے کہ علماء نے بضرورت شرط اولویت سے در گزر کی تھی،یہ بضرورت شرط اسلام اڑادیں گے انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔
دوازدہم:فاقد الطہورین میں اختلاف ہے کہ تاخیر کرے یا تشبہ،درمختار میں ہے:
|
یوخر ھا عندہ وقالا یتشبہ بالمصلین وجوبا ثم یعیدبہ یفتی والیہ صح رجوعہ[1]۔ |
امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك مؤ خر کرے اور صاحبین رحمہما اﷲ تعالٰی کے نزدیك نمازیوں سے تشبہ کرنا واجب ہے پھر بعد میں اعادہ کرے،اسی پر فتوٰی ہے،اور امام صاحب کا اس طرف رجوع صحیح ثابت ہے۔(ت) |
بالجملہ اس پر اجماع ہے کہ نماز نہیں پڑھ سکتا مگر اس فتوے کے طور پر بے وضو ہی نمازیں پڑھاکرے کہ اس سے زائد ضرورت کس کی ہوگی ا ور ضرورت سے اس فتوے نے شرائط صحت بھی ساقط مان لی ہیں۔
سیزدہم:روایت ۸ سے یہ واضح بتانا کہ رشوت لے کر فیصلہ بالاجماع باطل سخت عجیب ہے حالانکہ خود اس روایت کی عبارت منقولہ فتوٰی میں اس کا رد موجود ہے کہ اجماع کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ امام فخر الاسلام بزدوی کا مختاریہ ہے کہ وہ فیصلہ نافذ ہے،اور اسی کو امام محقق علی الاطلاق نے فتح میں ترجیح دی۔
چاردہم:مختلف فیہ مسئلہ میں بالفرض ایك طرف ترجیح نہ بھی ہوتی محل ضرورت میں اسے اختیار کرنے سے کیونکر لازم آتا کہ اسے سند بناکر دوسری جگہ بزعم ضرورت اپنی رائے سے نصوص قطعیہ قرآن عظیم و اجماع جمیع ائمہ کے خلاف چلئے،نہ کہ وہ مسئلہ جس میں فتوائے ائمہ مختلف ہوں ا س میں ایك جانب کو ضرور ت کے باعث بالخصوص معتمد کرلینے کو رد قرآن واجماع کی حجت بنالیجئے ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
پانزدہم:بفرض باطل بطلان فیصلہ رشوت پر اجماع ہی ہوتا تو فیصلہ قطعًا اہل سے محل میں صادر ہوا تھا امر خارج وجہ بطلان ہوتا جو انتہائی کوشش کے بعد یہ بتایاگیا ہے کہ قضا عمل لوجہ اﷲ ہے اور جب رشوت لے کر قضا کی،عمل اپنے لئے ہوا نہ کہ اﷲعزوجل کے لئے۔فتح القدیر میں ہے:
|
حاصل امر الرشوۃ فیما اذا قضی |
رشوت کی بحث کا حاصل یہ ہے کہ حق فیصلہ میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع