30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
التقلید لکنھا شرط الکمال فیجوز تقلید الفاسق و تنفذ قضایاہ اذالم یجاوز فیہا حدالشرط وعند الشافعی رحمہ اﷲ تعالٰی شرط الجواز[1]۔ |
کےلئے یہ شرط ہے لہذا فاسق کی تقرری اور اس کی قضاء کا نفاذ جائز ہے جب اپنے فیصلوں میں اس نے شرع سے تجاوز نہ کیاہو،اور امام شافعی رحمہ اﷲتعالٰی کے ہاں عدالت جواز قضاکےلئے شرط ہے۔(ت) |
اور اسلام قطعًا شرط صحت ہے جس کا ثبوت قرآن عظیم و نصوص ائمہ سے گزرا اولویت کی شرطوں سے اگر درگزر کی گئی تو اس سے شرط صحت کو بھی اڑادینے کا جواز کیونکر لازم آیا یعنی علماء نے غیر اولٰی کو صحیح مانا ہے لہذا ہم باطل کو حق مانے لیتے ہیں کیونکہ جیسا خلاف اولٰی ویسا ہی باطل ایك ہی بات ہے۔
یازدہم:نماز فاسق کے پیچھے مکروہ ہے پھر بھی جمعہ میں جہاں ایك ہی جگہ جمعہ ہوتا ہو علماء نے بضرورت اس کراہت سے در گزر کی ہے،فتح القدیر میں ہے:
|
فی الدرایۃ قال اصحابنا لاینبغی ان یقتدی بالفاسق الافی الجمعۃ لان فی غیرہا یجداماما غیرہ اھ یعنی انہ فی غیر الجمعۃ بسبیل من ان یتحول الی مسجد اٰخر ولایأثم فی ذٰلک،ذکرہ فی الخلاصۃ وعلی ھذافیکرہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد وھو المفتی بہ لانہ بسبیل من التحول حینئذ۔[2] |
درایہ میں ہے کہ ہمارے اصحاب رحمہم اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ فاسق کی اقتداء جمعہ کے بغیر مناسب نہیں کیونکہ جمعہ کے ماسوا نمازوں کے لئے امام دوسرا مل جاتا ہے یعنی غیر جمعہ میں گنجائش ہے کہ وہ دوسری مسجد میں چلا جائے تو گنہگار نہ ہوگا۔ اس کو خلاصہ میں بیان کیا تو اس وجہ کی بنا پر جمعہ میں بھی ایسے امام کی اقتداء مکروہ ہوگی جب جمعہ شہر میں متعدد جگہ ہوتا ہو جیسا کہ امام محمد رحمہم اﷲ تعالٰی کا قول ہے اور وہی مفتٰی بہ قول ہے کیونکہ اس صورت میں بھی اسے دوسرے امام جمعہ کے لئے گنجائش ہے(ت) |
لہذا اگر کہیں صرف جاہل مسلمان ہوں جن کو سورۃ فاتحہ بھی صحیح یاد نہیں،جیسے دیہات بلکہ قصبات بلکہ ہندوستان کے شہروں میں لاکھوں آدمی اسی طرح کے ہیں اور کوئی پادری صاحب شوقیہ طور پر فاتحہ اور چند سورتیں ٹھیك یاد کرچکے ہوں تو اس فتوے کی رائے میں بضرورت ان پادر ی صاحب کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع