30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قلد عبد فعتق جازان یقضی بتلك الولایۃمن غیر حاجۃ الٰی تجدید[1]۔ |
عبد تھا جو قاضی مقرر ہوا اب وہ آزاد ہوگیا تو اس پہلی تقرری ولایت پر اس کی قضاء جائز ہوجائیگی نئی تقرری کی ضرورت نہ ہوگی۔(ت) |
ہفتم:طرفہ تر یہ کہ اس روایت ہفتم کا خود حاصل یہ بتایا کہ غیر مسلم میں قاضی ہونے کی کافی لیاقت ہے اگرچہ مسلمانوں پر اس کے احکام نافذ نہیں ہوتے مگر اگر یہ ٹھہرے کہ ع
خود گفتہ و خود نداندکہ چیست
(اپنے کہے ہوئے کو خود نہیں جانتا کہ کیا ہے۔ت)
تو ا سکی بات جدا ہے۔
ہشتم:کافی لیاقت سے اگر مراد مطلق قضاء کی لیاقت تو صحیح ہے کہ نامسلم کو نامسلم پر ولایت شرعیہ مل سکتی ہے جیسے اپنے نابالغ بچوں پر۔درمختار میں ہے:
|
للکافر ولایۃ علی کافر مثلہ اتفاقا[2]۔ |
کافر کو اپنے جیسے کافر پر ولایت بالاتفاق حاصل ہوگی۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
الکافر یجوز تقلیدہ القضاء لیحکم بین اھل الذمۃ [3]۔ |
اہل ذمہ میں فیصلے کےلئے کافر کو قاضی مقرر کرنا جائز ہے۔(ت) |
مگر اس سے مسلمانوں کے دینی امور میں ان پر ولایت شرعیہ کیونکر لازم،اور اگر عام مراد تو محض باطل اور نصوص قطعیہ قرآن عظیم وتصریحات جملہ ائمہ وکتب کے خلاف ہے جس کا بیان مقدمہ چہارم میں گزرا۔غرض ثبوت کی یہ حالت تھی کہ گیارہ میں دس بیگانہ و بیکار اور ایك سراپا مخالف وضار،استنباط کا حال اسی سے آشکار کہ الشجرۃ تنبئی عن الثمرۃ(درخت اپنے پھل کی اطلاع دیتا ہے۔ت)
نہم:روایت ۱،۳،۸ سے یہ نتیجہ نکالا کہ قاضی کا فرض منصبی یہی ہے کہ حقدار کی حق رسی اور مظلوم سے رفع ظلم کردے جس کے لئے نہ عالم کی ضرورت نہ پرہیز گار کی۔اس سے مراد اگرصرف تنفیذ بمعنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع