30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
القطر الشامی ویکون در زیا ویکون نصرانیا فکل منھما لایصح حکمہ علی المسلمین فان الدرزی لاملۃ لہ کالمنافق والزندیق وان سمی نفسہ مسلماوھذاکلہ بعد کونہ منصوبا من طرف السلطان اومامورہ بذلك والافالواقع انہ ینصبہ امیر تلك الناحیۃ ولاادری انہ ماذون لہ بذلك ام لاولاحول ولاقوۃ الاباﷲالعلی العظیم[1]۔ |
یانصرانی ہو تو اس کی قضاء مسلمانوں پر جائز نہیں کیونکہ دروزی کی کوئی ملت نہیں ہے جیسا کہ منافق اور زندیق کی ملت نہیں ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہلائے،یہ تمام اس صورت میں ہے جب اس کو سلطان کی طرف سے مقرر کیا گیا ہو یا ایسے کو مقرر کرنے کا مامور ہو،اور اگر واقع یہ ہو کہ اس علاقہ کے کسی امیر کی طرف سے دروزی قاضی مقرر شدہ ہو اور معلوم نہیں کہ وہ امیر اس بات کا ماذون ہے یانہیں،لاحول ولاقوۃ الا باﷲالعلی العظیم(ت) |
ششم:یہ اول عبارت تھا آخریہ ہے کہ فتح نے فرمایا کافر و غلام اگرچہ ایك نوع ولایت رکھتے ہیں مگر ان میں صحت ونفاذ سے مانع موجود ہے جب تك یہ آزاد اور وہ مسلمان نہ ہوگا انکی قضاء صحیح ونافذ نہ ہوگی یعنی اس کی مطلقًا اور اس کی مسلمان پر کہ فرمایا:
|
لہ ولایۃ وبہ مانع وبالعتق والاسلام یرتفع[2]۔ |
اس کو ولایت ہوئی اور غلامی اور کفر اس کو مانع تھا اب عتق اور اسلام حاصل ہوجانے پر مانع ختم ہوگیا۔(ت) |
اور اس سے استناد اس پر کیا جاتا ہے کہ اس کی قضاء مطلقًا قضائے شرعی ہے صحت تقلید کے وہ معنی بھی اس میں واضح فرمادئے تھے کہ:
|
لو قلد کافر القضاء فاسلم قال محمد ھو علی قضائہ فصار الکافر کالعبد[3]۔ |
اگر کفر کی حالت میں قاضی مقرر ہو ا تو مسلما ن ہوگیا،امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی نے فرمایا وہ پہلی تقرری پر قاضی ہے تو یہ کافر غلام کی طرح ہوا۔(ت) |
اور عبد(غلام)میں فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع