30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چہارم:طرفہ یہ کہ یہاں جاہل سے مراد ہر غیر مجتہد ہے کہ اسے مجتہد کے مقابل اطلاق کیا ہے خود عبارت ہدایہ منقولہ فتوی میں ہے:
|
الصحیح ان اھلیۃ الاجتہاد شرط الاولویۃ فاما تقلید الجاہل فصحیح عندنا[1]۔ |
صحیح یہ ہے کہ اجتہاد اولٰی ہونے کی شرط ہے تو لیکن جاہل کی تقرری(قضاء کےلئے)توہمارے نزدیك صحیح ہے۔(ت) |
بایں معنی آج تمام دنیا کے عالم اور خود یہ مفتی اور ان کے اساتذہ اور اساتذہ اساتذہ صد ہا سال سے سب جاہل ہیں کہ کوئی مجتہد نہیں اور ان کے طور پر ان کا اور مجوس و ہنود ونصارٰی ویہود سب کا ایك حکم ہے کیا یہ قابل تسلیم عقل سلیم ہے۔
پنجم:گیارہ۱۱ میں یہ دس تو محض بے علاقہ و بیگانہ تھیں مگر سب میں لطیف تروہ ایك باقیماندہ عبارت ردالمحتار یعنی ساتویں ہے جو اول تاآخر سراسر مزعوم فتوٰی کا رد و ابطال ہے اور مفتی کو اس سے استناد کا خیال ہے مفیدونامفید میں فرق نہ کرنا ایسا دشوار نہ تھا جیسا خود کو مفید سمجھنے میں اشکال ہے،بحرالرائق میں تو یہ فرمایا کہ اگر سلطان اسلام کسی نامسلم کو اپنے حکم سے قاضی کردے جب بھی تاوقتیکہ وہ مسلمان نہ ہوجائے،مسلمان پر اس کی قضا صحیح نہیں کہ فرمایا:
|
لم یصح قضاؤہ علی المسلم حال کفرہ[2]۔ |
کافر کی قضاء حالت کفر میں مسلم پر صحیح نہیں ہے(ت) |
اور اس سے استناد اس پر ہوتا ہے کہ اگر بادشاہ نامسلم بھی نامسلم کو قاضی کردے اور وہ نامسلم ہی رہے جب بھی مسلمانوں پر اس کی قضاء قضائے شرعی ہے،صحت تقلید کے معنی یہ تھے کہ اگر بعد تقلید مسلمان ہوجائے گا تقلید جدید کی حاجت نہ ہوگی،نیز قبل اسلام غیر مسلمین پر اس کی قضاء صحیح ہوجائے گی نہ یہ کہ مسلمین پر قضائے شرعی ہو،اسی ردالمحتار کے اسی صفحہ میں ہے:
|
تنبیہ: ظھر من کلامھم حکم القاضی المنصوب فی بلاد الدروز فی |
تنبیہ:فقہاء کے کلام سے شام کے علاقہ بلا د دروز میں مقرر قاضی کا حکم واضح ہوا کہ دروز |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع