30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
باتباع علمائہ فان کثروا فالمتبع اعلمھم [1]۔ |
رجوع میں مستقل ہوگا،تو اگر علماء علاقہ میں کثیر ہوں تو بڑا عالم قابل اتباع ہوگا۔(ت) |
بحمد اﷲ تعالٰی ان مقدمات جلیلہ نے ان فتووں کے حرف حرف کا بطلان آفتاب سے زیادہ روشن کر دیا جس کے بعد کسی ذی فہم کو کوئی حالت منتظرہ باقی نہ رہی پھر بھی زیادت ایضاح للقاصرین کےلئے ہر جگہ رد کا مردود سے تعلق بتادینا اور بعض افاضات تازہ کا اضافہ کرنا انسب واولٰی۔
فاقول:وباﷲ التوفیق(تومیں کہتا ہوں اور اﷲ تعالٰی سے توفیق ہے۔ت)
اول: کلام حاکم نامسلم کی ولایت شرعیہ میں تھا جسے بادشاہ نامسلم نے مقرر کیا سائل نے اسی سے سوال کیا تھا مجیب نے اسی سے جواب دیا اور ثبوت کی سرخی دے کر جو گیارہ عبارتیں گنائیں ان میں پہلی نو مقلد بالفتح اور اخیر کی دو مقلد بالکسر سے متعلق ہیں۔ان دو کا بیان شافی مقدمہ ششم میں گزرا کہ انہیں یہاں سے متعلق سمجھنا محض نادانی و بے فہمی ہے وہ صرف اس صورت سے متعلق ہیں کہ ریاست اسلامی کا والی مولی ہو اور بادشاہ نامسلم۔
دوم:بفرض باطل اگر یہ دو عام ہوتیں ہر گز تام نہ ہوتیں کہ کلام تو قاضی نا مسلم میں ہے ان دو نے اگر بفرض غلط بادشاہ سے تقلد قضائے شرعی مسلم کے لئے مطلقًا جائز رکھا تو نامسلم کےلئے جواز کیونکر ہوگیا،کیا قاضی مسلم و نامسلم کا شرعًا ایك حکم ہے،
|
قال اﷲتعالٰی" اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیۡنَ کَالْمُجْرِمِیۡنَ ﴿ؕ۳۵﴾ مَا لَکُمْ ٝ کَیۡفَ تَحْکُمُوۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾ "[2] |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کی طرح کردیں،تمہیں کیا ہوا کیسا فیصلہ کرتے ہو۔(ت) |
سوم:رہیں وہ نو،ان میں سے آٹھ میں نامسلم کا نام تك نہیں،پہلی تیسری،چوتھی،نویں میں جاہل کا ذکر ہے اور چھٹی آٹھویں میں فاسق اور دوسری،پانچویں میں جاہل وفاسق دونوں کا۔کیا جاہل و فاسق مسلمان نہیں یا مسلم یا نامسلم شرعًا یکساں ہیں،جو حکم ان کےلئے شرع نے مانا ہوان پر قیاس کرکے نامسلم کے لیے بھی ثابت ہوجائے گا،کیا ایسا تعدیہ شرع پر تعدی نہیں۔ " وَمَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللہِ "[3] (جو اﷲ تعالٰی کی حدودسے تجاوز کرے۔ت)کا کیاحکم ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع