30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سیرۃ الامراء ویحکم بینھم بحکم الولاۃ تجوز الجمعۃ بحضرتہ[1]۔ |
ولایت کی بناء پرحکم تسلیم کرو اچکا ہو اس کی موجودگی میں جمعہ قائم ہوسکے گا۔(ت) |
غایت یہ کہ اس کی ولایت عرفیہ طریقہ شرعیہ سے مستفادیعنی بحکم امیر المومنین نہیں تو یہ ایك نواب کیا آج صدہا سال سے تمام روئے زمین کے سلاطین اسلام ایسے ہی ہیں،اپنے استیلاہی کے باعث سلطان اسلام ہیں وہ اسے بھی حاصل اور منظوری بادشاہ اس کی معین ہے نہ کہ مخل،رہا بوجہ منظوری سبب،اس کی قضاء کو تقلید بادشاہ غیر مسلم کی طرف منسوب کرسکتے ہیں یہی دونوں صورتیں عبارت مسکین:
|
یجوز تقلد القضاء من السلطان العادل او الجائر سواء کان کافرا اومسلما کذافی الاصل[2]۔ |
قضاء کی تقرری سلطان عادل خواہ ظالم سے ہوگی اس کا مسلمان ہونا اور کافر ہونا برابر ہے اصل(مبسوط)میں یونہی ہے(ت) |
اور عبارت ہندیہ:
|
ذکر فی الملتقط والاسلام لیس بشرط فیہ ای فی السلطان الذی یقلد کذافی التاتارخانیۃ [3]۔ |
ملتقط میں ذکرکیاکہ سلطان میں اسلام شرط نہیں ہے یعنی جو سلطان قاضی کی تقرری کرے۔تاتارخانیہ میں یونہی ہے۔ (ت) |
میں مراد ہیں اور اس پردلیل قاطع یہ کہ مسکین نے اسے اصل سے نقل کیا، اصل مبسوط امام محمد رضی اﷲتعالٰی عنہ کا نام ہے،مبسوط کی عبارت یہ ہے جو ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ میں بحوالہ معراج الدرایہ منقول:
|
البلاد التی فی ایدی الکفار بلاد الاسلام لابلاد الحرب لانھم لم یظھروا فیہا حکم الکفر بل القضاۃ والولاۃ مسلمون یطیعونھم عن ضرورۃ او بدونھا وکل مصرفیہ وال |
وہ بلاد جوکفار کے قبضے میں آئے ہیں وہ بلاد اسلام ہیں بلاد کفر نہیں ہیں کیونکہ کافر وہاں کفر کے احکام کو مسلط نہیں کر پائے بلکہ وہاں قاضی اور والی حضرات مسلمان ہیں وہ ایك ضرورت کے تحت یا ضرورت کے بغیر کفار کے ماتحت ہیں،وہ شہر جس میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع