30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور پر ظاہر کہ اس کا تقرر بلا واسطہ بمنظوری بادشاہ نامسلم ہوا تو نظربہ استفادہ وسبب وقضاتقلد قضامن سلطان غیر مسلم کہہ سکتے ہیں،اگرچہ یہاں حقیقت امر یہ ہے کہ ولایت نواب والی ملك اپنی ولایت عرفیہ یعنی غلبہ واستیلا سے مستفاد ہے کہ شرع مطہر نے والی مسلم کے لئے صرف اسے بھی سبب حصول ولایت معتبرہ عندالشرع مانا ہے۔فتاوٰی امام قاضی خاں پھر بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:
|
السلطان یصیر سلطانا بامرین بالمبایعۃ معہ من الاشراف والاعیان وبان ینفذ حکمہ علی رعیتہ خوفا من قھرہ فان بویع ولم ینفذ فیہم حکمہ لعجزہ عن قھرھم لایصیر سلطانا،فاذاصار سلطانا بالمبایعۃ فجار ان کان لہ قھر وغلبۃ لاینعزل[1]۔ |
سلطان کی تقرری دو چیزوں سے حاصل ہوتی ہے ایك اشراف اور اعیان حکومت کی بیعت،اور دوسرا رعیت پر اس کے دبدبے کی بناپر اس کے حکم کا نافذ ہونا،تو اس کی بیعت ہوئی لیکن رعیت پر دبدبہ قائم نہ ہونے کی وجہ سے اس کا حکم نافذ نہ ہوسکا تو سلطان نہ بن سکے گا تو جب سلطان بن گیا اور اپنے دبدبے اور غلبہ کی بنا پر ظلم کیا تو معزول نہ قرار پائے گا۔(ت) |
فصول عمادیہ پھر ہندیہ میں ہے:
|
ذکر فی الفتاوی ایضا تجوز صلٰوۃ الجمعۃ خلف المتغلب الذی لامنشورلہ من الخلیفۃ اذاکانت سیرتہ فی رعیتہ سیرۃ الامراء یحکم فیما بین رعیتہ بحکم الولایۃ لان بھذا تثبت السلطنۃ فیتحقق الشرط[2]۔ |
فتاوٰی میں یہ بھی مذکور کہ ایسے سلطان کی اقتدا میں جمعہ جائز ہوگا جو خود غلبہ پاکر خلیفہ کی منظوری کے بغیر اقتدار پر فائز ہوگیا بشرطیکہ رعیت میں امراء کی سی سیرت قائم کرچکا ہو وہ اپنی ولایت کی بنا پر رعیت میں حکم نافذ کرچکا ہو کیونکہ اس سے سلطنت قائم ہوگئی تو شرط متحقق ہوگئی۔(ت) |
خلاصہ پھر بحرالرائق پھر طحطاوی پھر ابن عابدین میں ہے:
|
المتغلب الذی لاعھدلہ ای لامنشور لہ ان کان سیرتہ فیما بین الرعیۃ |
خلیفہ کی منظوری کے بغیر غلبہ پانے والے نے رعیت میں امراء کی سی سیرت قائم کرلی اور اپنی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع