30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المسلمین غلب علیہم الکفار،یجب علیہم ان یتفقوا علی واحد منھم یجعلو نہ والیا،فیولی قاضیا و یکون ھوالذی یقضی بینھم وکذا ینصبو الھم اماما یصلی بھم الجمعۃ[1]۔ |
مسلمانوں کے وہ علاقے جہاں کفار نے غلبہ پایا ہے تو وہاں کے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے کسی ایك پر اتفاق کرکے اس کو والی قراردیں تو وہ کسی کو قاضی مقرر کردے اور وہ لوگوں میں فیصلے کرے اور یونہی وہ مسلمان کسی کو جمعہ کا امام مقرر کریں جو جمعہ کی نماز پڑھائے۔(ت) |
جامع الفصولین میں ہے:
|
کل مصرفیہ وال مسلم من جہۃ الکفار تجوز فیہ اقامۃ الجمع والاعیاد واخذالخراج وتقلید القضاء وتزویج الایامی لاستیلاء المسلم علیہم،واما فی بلاد علیہا ولاۃ کفار فیجوز للمسلمین اقامۃ الجمع و الاعیاد ویصیر القاضی قاضیا بتراضی المسلمین ویجب علیہم طلب وال مسلم[2]۔ |
ہر ایسا شہر جس میں کفار کی طرف سے کوئی مسلمان والی مقرر ہو اس شہر میں جمعہ و عیدین کا قیام خراج وصول کرنا،قاضی کی تقرری اور یتیم بچیوں کا نکاح جائز ہوگا کیونکہ اس طرح مسلمانوں کا ان پر غلبہ ثابت ہے اور لیکن وہ علاقے جہاں کفار ہی والی ہوں وہاں مسلمانوں کی رضامندی سے مقرر شدہ قاضی ہی بااختیار قاضی ہوگا تو وہاں مسلمانوں کو جمعہ وعیدین کا قیام جائز ہوگا اور مسلم والی کےلئے جدوجہد ان پر واجب ہوگی۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
لو فقد وال لغلبۃ کفار وجب علی المسلمین تعیین وال وامام للجمعۃ،فتح[3]۔ |
اگر غلبہ کفار کی بناپر مسلمان والی مفقود ہو تو مسلمانوں پر اپنے طور کسی قاضی اور جمعہ و عیدین کے امام کا تقرر واجب ہوگا، فتح(ت) |
بعینہٖ اسی طرح معراج الدرایہ وتاتارخانیہ وردالمحتار وغیرہا میں ہے کہ ان کی عبارات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع