30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وکذاالطبیب لو باع الادویۃ نفذ فدل ان المراد المنع الحسی کما فی الدرر عن البدائع [1]۔ |
اور یونہی وہ طبیب اگر دوافروخت کرے تو یہ کارروائی نافذ ہوگی تو اس سے معلوم ہوا کہ یہ منع محض حسی کارروائی ہے جیسا کہ درر میں بدائع سے نقل کیا گیا ہے(ت) |
اسی قبیل سے ہے سلطان کا ایام گرانی میں،یافوج کے لئے اشیاء کا بھاؤ کاٹ دینا کہ اگر بائع برضائے مشتری زیادہ کو پہنچے شرعًا جائز و نافذ رہے گا آخرت میں مستحق عذاب نہ ہوگا اگرچہ دنیا میں سلطان اسے سزادے اور اگر اس سلطانی مقرر کردہ بھاؤ پر محض بخوف سلطان بیچے تو وہ شے مشتری کیلئے عنداﷲ حلال نہ ہوگی۔درمختار میں ہے:
|
لایسعر حاکم لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا تسعر وا فان اﷲ ھوالمسعر القابض الباسط الرازق الا اذا تعدی الارباب عن القیمۃ تعدیا فاحشا فیعسر بمشورۃ اھل الرأی،وفی الاختیار ثم اذا سعر و خاف البائع ضرب الامام لو نقص لایحل للمشتری[2] اھ ای اذا باع للخوف کما عبر للقہستانی فسقط نظر الشامی وتحقیقہ فی جدالممتار۔ |
حاکم بھاؤ مقرر نہ کر ے کیونکہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا فرمان ہے بھاؤ مقرر نہ کرو کیونکہ اﷲ تعالٰی ہی بھاؤ بنانے والا ہے وہی تنگی،وہی وسعت وہی رزق دینے والا ہے مگر جب تجار قیمت میں فحش گرانی کریں تو پھر حاکم اہل الرائے سے مشورہ کے بعد بھاؤ مقرر کرے تو جائز ہے،اور اختیار میں ہے پھر جب حاکم بھاؤ مقرر کردے اور بائع کو حاکم کی سزا کا خوف ہواگر اس نے مال کم بھاؤ پر دیا تو مشتری کو اس بھاؤ خرید نا جائز نہیں اھ یعنی جب بائع محض خوف کی وجہ سے(بغیر رضا) فروخت کرے تو مشتری کو جائزنہیں جیسا کہ قہستانی نے یہ تعبیر کی ہے،تو اب علامہ شامی کا اعتبار ساقط ہوگیا اور اس کی تحقیق جدالممتار میں ہے(ت) |
(۱۰)بے اذن و رضائے مدیون اس کی جائداد زر ڈگری میں نیلام کر دینا ضرور حسابحکم سلطنت موجود ہوجائے گا،کلام اس میں ہے کہ شرعًا بھی وہ بیع صحیح ونافذ اور شیئ مبیع مشتری کے لئے عنداﷲ حلال ہوجائے گی اس پر خواہ اس کے ورثہ پر کہ اس کے بعد اسے اپنی ملك صحیح شرعی جانیں آخرت میں کچھ مواخذہ نہ ہوگا یہ مختلف فیہ ہے ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ تو اسے سلطان اسلام کیلئے بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع