30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۶)اپنے حکم سے اختلافی مسئلہ کو اتفاقی کردینا ائمہ مجتہدین کا اختلاف اٹھا کر متفق کرلینا مثلًا مرد و عورت دونوں شافعی المذہب ہیں مرد نے پیش از نکاح حلف کیا کہ تجھ سے نکاح کروں تو تجھ پر طلاق،پھر نکاح کرلیا،زوجین کے مذہب میں طلاق نہ ہوئی کہ امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیك یمین مضافہ باطل ہے انہیں باہم قربت حلال ہے،بعدہ عورت نے دعوٰی کردیا،حاکم حنفی المذہب نے صحت یمین و وقوع طلاق وبینونت زن کا حکم کیا اب عنداﷲ ان میں حرمت ثابت ہوگئی ایسی کہ امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ بھی یہی فرمائیں گے کہ دونوں اجنبیہ و اجنبیہ ہیں بے نکاح جدید اسے ہاتھ لگانا ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہے،اور اگر زوجین حنفی ہوں نکاح ہوتے ہی عورت پر طلاق بائن ہوگئی لو قوعۃ قبل الخلوۃ(کیونکہ یہ طلا ق قبل از دخول ہے۔ت)ان دونوں کے مذہب میں حرمت ثابت ہوگئی کہ اضافت یمین ہمارے نزدیك صحیح ہے اب مثلًا عورت نے قاضی شافعی کے یہاں دعوٰی کردیا قاضی نے بطلان یمین وعدم طلاق کا حکم دیا اب عنداﷲ ان میں حلت ثابت ہوگئی ایسی کہ ہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم بھی یہی فرمائیں گے کہ یہ دونوں زوج وزوجہ ہیں یہاں تك کہ اس کے حکم سے پہلے جو وطی کرچکا تھا اب اس پر بھی حکم حلت ہوگیا۔بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:
|
قال ان تزوجت فلانۃ فھی طالق ثلثا فتزوجھا فخاصمتہ الی قاض شافعی وادعت الطلاق فحکم بانھا امرأتہ وان الطلاق لیس بشیئ حل لہ ذٰلک، و لو وطئھا الزوج بعد النکاح قبل الفسخ ثم فسخ یکون الوطی حلالا اذا فسخ واذافسخ لایحتاج الی تجدید العقد[1]۔ |
اگرکسی نے کہا میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس کو تین طلاق ہیں،تو اب اس سے نکاح کیا تو عورت نے کسی شافعی قاضی کے ہاں طلاق کا دعوٰی کیا تو اس قاضی نے(اپنے مذہب پر)فیصلہ دیا کہ یہ اس کی بیو ی ہے اور یہ طلاق کچھ نہیں تو ایسی صورت میں وہ عورت خاوند کے لئے حلال ہوگی اور اگر خاوند نے اس عورت سے فسخ سے قبل وطی کرلی تو حلال ہوگی اور جب یمین و تعلیق فسخ ہوگئی تو اب تجدید نکاح کی حاجت نہیں۔(ت) |
وجہ یہ کہ قضائے شرعی نے کہ حقیقۃً حکم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے سلطان وقاضی حضور کے نائب وحکم رساں ہیں اختلاف مجتہدین کو اٹھادیا اور ہر امام و مجتہد پر اس واقعہ میں اسی کو حکم الٰہی جاننا لازم ہوگیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع