30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوپر معلوم ہوا کہ اس تنفیذ کےلئے ولایت قسم دوم کی حاجت نہیں،نہ صرف وہ اس کےلئے کافی،بلکہ ولایت قسم اول کی حاجت،اور تنہاوہی یہاں دادرسی کےلئے بس ہے۔دوسرے وہ جن میں مسلمانوں کے کسی کام میں معنی شرعی غیر موجود کا اپنی ولایت و نیابت حضرت رسالت علی افضل الصلٰوۃ والتحیۃ سے پیدا کرنا ہو مثلًا:
(۱)جمعہ وعیدین میں کسی کو امام بنانا۔
(۲)کسی کو خطیب جمعہ مقرر کرنا کہ ہر مسلمان صالح امامت نماز پنجگانہ،جمعہ وعیدین کی امامت نہیں کرسکتا نہ جمعہ کا خطبہ پڑھ سکتا ہے نہ اس کے پڑھنے پڑھانے سے نماز صحیح ہوجب تك ماذون من جہۃ السلطان نہ ہو جہاں اذن سلطان ناممکن ہو بضرورت نصب عامہ مسلمین معتبر ہے کما نص علیہ فی تنویر الابصار والدرالمختار وعامۃ الاسفار(جیسا کہ اس پر تنویر الابصار، درمختار اور عام کتب میں تصریح ہے۔ت)تولیاقت خطبہ وامامت مذکورہ ایك معنی شرعی دینی ہے اور پیش از اذن سلطان مثلًا زید کو حاصل نہیں،اذن دیتے ہی ثابت و محقق ہوجائے گی اس کےلئے قطعًا ولایت قسم دوم درکار۔
(۳)زن و شو لعان کریں۔
(۴)عنین بعد مرافعہ و تاجیل یکسال و انقضائے اجل و طلب زن طلاق نہ دے تو دونوں صورتوں میں بہ نیابت ولی مطلق صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان میں تفریق کرنا یعنی خود منکوحہ غیر کو طلاق بائن دے دینا اور شوہر مانے یا نہ مانے نکاح ثابت کا اس کے قول سے قطع ہوکر شرعًا زوج کا زوجہ زوجہ کا زوج پر ہمیشہ کےلئے حرام ہوجانا ایسا کہ اگر اس کے بعد قربت کریں تو نہ فقط دنیا میں بلکہ اﷲ عزوجل کے نزدیك بھی حرام کارٹھہریں جب تك از سر نو نکاح نہ کریں،اور صورت لعان میں تو نکاح بھی نہیں کرسکتے جب تك مرد وزن دونوں اہلیت لعان پر باقی رہیں اور شوہر خود اپنی تکذیب نہ کرے۔درمختار میں ہے:
|
فان التعنابانت بتفریق الحاکم فیتوارثان قبل تفریقہ[1]۔ |
اگر دونوں نے لعان کرلیا تو حاکم کی تفریق سے بائنہ ہوجائیگی اور قاضی کی تفریق سے قبل مرد و عورت ایك دوسرے کے وارث ہوں گے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
تکون الفرقۃ تطلیقۃ بائنۃ عندھما وقال ابویوسف ھو تحریم |
طرفین کے نزدیك قاضی کی تفریق طلاق بائن ہوگی جبکہ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ یہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع