30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لہذا حدیث میں ارشاد ہوا:
|
السلطان ولی من لاولی لہ[1]۔ |
سلطان اس شخص کا ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔(ت) |
شریعت مطہرہ نے جس حکم کو اس قدر محدود فرمایا ہو اسے اتنا وسیع کردینا شریعت جدیدہ قائم کرنا ہوگا۔ان دونوں مقدمات سے واضح ہوا کہ جو ولایت گورنمنٹ کی مقصود و مدعا ہے شرع مطہر اس کا انکار نہیں فرماتی اور جو ولایت شرع مطہر مسلمان پر مسلمان کے لئے خاص فرماتی ہے گورنمنٹ کو نہ اس سے بحث نہ اس کا دعوٰی،تو کیا نہ کہا جائے گا کہ اس کی مخالفت شرع اور گورنمنٹ دونوں پر تہمت،نسأل اﷲ السلامۃ(ہم اﷲ تعالٰی سے سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔ت)
مقدم پنجم:اوپرمعلوم ہوا کہ مقصود کبھی وجود شیئ ہوتا ہے کبھی حدوث حکم شرعی،قاضی کے یہاں جو مقدمات دائر ہوتے ہیں دونوں قسم کے ہیں اکثر قسم اول کے ان کی تنفیذ بمعنی اول و منع موانع ثمرات حسیہ مقصود ہے،مثلًا:
(۱)زید نے عمرو کی جائداد دبالی۔
(۲)قرض لیا اور ادا نہیں کرتا۔
(۳)چیز بیچی اور قبضہ نہیں دیتا۔
(۴)مول لی اور قیمت نہیں دیتا۔
(۵)ترکہ میں حق ہے اور قابض نہیں ہونے دیتا۔
(۶)مورث نے وصیت کی تھی وارث نہیں مانتا۔
(۷)شوہر رخصت کرالایا اور نان نفقہ نہیں دیتا۔
(۸)طلاق بائن دے دی ہے اور نہیں چھوڑتا۔
(۹)چیز عاریت لی تھی اور واپس نہیں کرتا۔
(۱۰)وقف میں ناجائز تصرف کررہا ہے وغیرہ وغیرہ۔
ان عام صورتوں میں کہ روازنہ جن کی حاجت پڑتی اور جن کے مقدمات دائر ہوتے رہتے ہیں حقدار کی حق رسی اور مظلوم سے دفع ظلم صرف تنفیذ بمعنی اول مانگتی ہے کہ معانی شرعیہ تو خود موجود ہیں۔
[1] سنن ابوداؤد کتاب النکاح باب الولی آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۸۴،جامع الترمذی ابواب النکاح باب ماجاء لانکاح الابولی امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۳۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع