30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسری نظیر اوقاف ہیں وقف میں متولی شرعی کا تصرف معتبر اور اسکے ہوتے سلطان اسلام قاضی کا تصر ف بے اثر۔فتاوٰی امام رشید الدین پھر اشباہ میں ہے:
|
لایملك القاضی التصرف فی الوقف مع وجود ناظرہ ولو من قبلہ[1]۔ |
قاضی وقف میں تصرف کا مالك نہیں ہوگا جبکہ اس کا متولی موجود ہو اگرچہ متولی اسی قاضی کا مقرر کردہ ہو۔(ت) |
فتاوٰی وبری پھر فتوٰی علامہ قاسم قطلو بغا پھر لسان الحکام میں ہے:
|
لاتد خل ولایۃ السلطان علی ولایۃ المتولی فی الوقف[2]۔ |
وقف میں متولی کی ولایت کے خلاف سلطان کی ولایت مؤثر نہ ہوگی۔(ت) |
تیسری نظیر اموال قاصرین ہیں کہ اولیائے اموال پھر اس کے ولی شرعی مقدم ہیں اورسلطان و قاضی ساتویں درجہ ہیں۔قنیہ پھر اشباہ میں ہے:
|
لایملك القاضی التصرف فی مال الیتیم مع وجود وصیہ ولو کان منصوبہ [3]۔ |
وصی کی موجودگی میں یتیم کے مال میں قاضی تصرف کا مالك نہیں ہے اگرچہ یہ وصی اس نے ہی مقرر کیا ہو۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
ولیہ ابوہ ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم جدہ الصحیح ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم الوالی ثم القاضی عــــــہ [4] |
اس کا ولی باپ پھر وصی پھر وصی کا وصی پھر حقیقی دادا پھر اس کا وصی پھر اس کے وصی کا وصی،پھر والی پھر قاضی۔(ت) |
|
عــــــہ:کان علیہ ان یقول والقاضی بالواؤ لانہ والوالی فی مرتبۃ واحدۃ ایھما تصرف جاز ۱۲منہ غفرلہ۔ |
یوں کہنا لازم تھا،والقاضی،یعنی واؤ کے ساتھ،کیونکہ قاضی اور والی کا مرتبہ یہاں مساوی ہے دونوں میں سے جو بھی تصرف کرے جائز ہے۱۲منہ غفرلہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع