30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور کتاب القضایا میں ہے:
|
اھلہ اھل الشہادۃ وشرط اھلیتھا شرط اھلیتہ فان کلامنھما من باب الولایۃ[1]۔ |
قاضی کی اہلیت وہی ہے جو شہادت کی اہلیت ہے اور شہادت کی اہلیت وہی ہوگی جو مدعا علیہ کی اہلیت ہوگی کیونکہ یہ دونوں امرولایت سے متعلق ہیں۔(ت) |
ہدایہ میں ہے:
|
لاولایۃ لکافر علی مسلم لقولہ تعالٰی " وَلَنۡ یَّجْعَلَ اللہُ لِلْکٰفِرِیۡنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ سَبِیۡلًا ﴿۱۴۱﴾٪ "[2]۔ |
کافر کو مسلمان پر ولایت نہیں کیونکہ اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے: اﷲ تعالٰی نے کافرو ں کو مومنوں پر ہر گزاختیار نہیں دیا۔(ت) |
اسی کی شہادات میں ہے:
|
لاتقبل شہادۃ الذمی علی المسلم لانہ لا ولایۃ لہ بالاضافۃ الیہ[3]۔ |
مسلم کے خلاف ذمی کی شہادت قبول نہ ہوگی کیونکہ اس کو مسلمان پر ولایت نہیں ہے۔(ت) |
مختصر امام قدوری میں ہے:
|
لاتصح ولایۃ القاضی حتی یجتمع فی المولّٰی شرائط الشہادۃ [4]۔ |
قاضی کی ولایت اس وقت تك صحیح نہ ہوگی جب تك کہ مولی میں شہادت کی شرائط پائی جائیں۔(ت) |
ہدایہ میں ہے:
|
لان حکم القضاء یستقی من حکم الشہادۃ لان کل واحد منھما من باب الولایۃ فکل من کان اھلا للشہادۃ یکون اھلا للقضاء وما یشترط |
کیونکہ قاضی کا فیصلہ شہادت کے حکم سے مستفاد ہوتا ہے کیونکہ یہ دونوں امر از قبیل ولایت ہیں تو جو شہادت کا اہل ہوگا وہی قضاء کا اہل ہوگا تو جو چیز شہادت کی اہلیت میں شرط ہے وہ قضاء |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع