30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
i اللہُ لِلْکٰفِرِیۡنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ سَبِیۡلًا ﴿۱۴۱﴾٪ "[1] (اور اﷲ تعالٰی نے کافروں کو مومنوں پر ہر گز اختیار نہیں دیا۔ت) یہاں قطعًا وہی سبیل دینی شرعی مراد ہے کہ سبیل دنیوی کا انتفاع خلاف مشاہدہ و اشہاد ہے،قرآن عظیم اس معنی کی آیات سے مشحون ہے۔حلبی علی الدر پھر شامی میں ہے:
|
الکافر لایلی علی ولدہ المسلم لقولہ تعالٰی " وَلَنۡ یَّجْعَلَ اللہُ لِلْکٰفِرِیۡنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ سَبِیۡلًا ﴿۱۴۱﴾٪ "[2]۔ |
کافر اپنے مسلم بیٹے کا ولی نہیں کیونکہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اور اﷲ تعالٰی نے کافروں کو مومنوں پر ہر گز اختیار نہیں دیا(ت) |
نہایہ پھر عالمگیریہ پھر طحطاوی پھر ابن عابدین میں ہے:
|
تقلید الذمی لیحکم بین اھل الذمۃ صحیح لابین المسلمین وکذلك التحکیم[3]۔ |
ذمی کا تقر ر ذمیوں میں فیصلہ کرنے کے لئے صحیح ہے مسلمانوں میں فیصلہ کرنے کےلئے نہیں اور ثالثی کا بھی یہی حکم ہے۔(ت) |
تنویر الابصار میں ہے:
|
لو حکما عبدافاعتق اوصبیا فبلغ اوذمیا فاسلم ثم حکم لاینفذ[4]۔ |
اگر فریقین نے کسی غلام کو ثالث بنایااب وہ آزاد ہوگیا نابالغ کو بنایا تو وہ بالغ ہوگیا،یا ذمی کو بنایا تو وہ مسلمان ہوگیا،پھر اس کے بعد وہ فیصلہ کریں تو نافذ نہ ہوگا۔(ت) |
درمختار کتاب الشہادات میں ہے:
|
شرطھا الولایۃ فیشترط الاسلام لو المدعی علیہ مسلما[5]۔ |
شہادت کی شرط ولایت ہے اگرمدعا علیہ مسلمان ہو تو گواہ کا مسلمان ہونا شرط ہوگا۔(ت) |
[1] القرآن الکریم ۴/ ۱۴۱
[2] ردالمحتار کتاب النکاح باب الولی داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۲ /۳۱۲
[3] ردالمحتار بحوالہ الھندیۃ عن النہایۃ کتاب القضاء باب التحکیم داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۴ /۳۴۸،حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب القضاء باب التحکیم دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۲۰۷
[4] درمختار شرح تنویر الابصارکتاب القضاء باب التحکیم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۲
[5] درمختار کتاب الشہادات مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع