30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے خلاف منشا واظہار ہے۔
مقدمہ چہارم:شریعت مطہرہ اسلامیہ علی صاحبہا وآلہ افضل الصلٰوۃ والتحیۃ نے ولایت عرفیہ کو جس سے آدمی والی ملك اور حاکم کو بادشاہ وقت ہوجاتا ہے اور عایا کو اس کی پابندی لازم ہوتی ہے اس کے حال پر چھوڑا ہے،اسے مسلم نا مسلم کسی سے خاص نہ فرمایاجس طرح وہ عرف میں کسی سے خاص نہیں اس لئے کہ وہ زیر اثر احکام تکوینیہ ہے جسے خدادے اسے ملے اور شریعت کی بحث صرف احکام تشریعیہ سے ہے:
|
قال اﷲ تعالٰی " قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنۡ تَشَآءُ وَتَنۡزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ۫ "[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:آپ فرمادیجئے اے ملك کے مالك تو جسے چاہے ملك عطا فرمائے اور جس سے چاہے واپس لے لے۔(ت) |
اس من تشاء میں کوئی خصوصیت اسلام کی نہیں،ولہذا قرآن مجید نے زمانہ یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام میں بادشاہ مصر کو جابجا بلفظ ملك تعبیر فرمایا:
|
" وَ قَالَ الْمَلِکُ اِنِّیۡۤ اَرٰی "[2]" وَ قَالَ الْمَلِکُ ائْتُوۡنِیۡ بِہٖ "[3]" مَاکَانَ لِیَاۡخُذَ اَخَاہُ فِیۡ دِیۡنِ الْمَلِکِ "[4]۔ |
بادشاہ نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں،بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ،بادشاہ کے دین میں بھائی کو پکڑناجائز نہیں۔(ت) |
اور وہ غلط تعبیر سے پاك و منزّہ ہے،یوں ہی حضرت بلقیس کو ان کے اسلام سے پہلے قول ہدہد میں بلفظ " اِنِّیۡ وَجَدۡتُّ امْرَاَۃً تَمْلِکُہُمْ "[5](میں نے ایك عورت کو ان کا بادشاہ پایا۔ت) ذکر فرمایا اور وہ تقریر علی الغلط سے طاہر و مبرا ہے، تو ثابت ہوا کہ بادشاہ اگرچہ نامسلم ہو ضرور والی ملك اور ولایت قسم اول رکھتا ہے مگر مسلمان بر ولایت قسم دوم دینیہ شرعیہ جس سے مسلمان کے حق میں حکم غیر موجود شرعی مذہبًا موجود ہوجائے اور دینی حیثیت سے آخرت میں اس کے کام آئے صرف مسلمان کے ساتھ خاص فرمائی ہے اور کلمہ حصر و تصریح نفی دونوں طور پر اسے صاف فرمادیا ہے کہ کسی کا مجال تاویل وابدائے احتمال نہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع