30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دعوٰی صرف مدعی کا قول ہوتاہے اور شہادت اسی کی مخبر ہے۔ |
۵۷۵ |
قبضہ اقوی اسباب ملك سے ہے اس کی بنیاد پر ملکیت کی شہادت نہ مانی جائے تو باب شہادت مسدود ہوگا۔ |
۵۸۲ |
|
ایك گواہ نے کہا فلاں نے کوفہ میں اپنی عورت کو طلاق دی فلاں دن، اور دوسرے نے بصرہ میں کسی دوسرے دن طلاق دینے کی گواہی دی،اگر دونوں دنوں میں اتنا فاصلہ ہے کہ آدمی کوفہ سے بصرہ جاسکے شہادت مقبول ہے۔ |
۵۷۵ |
ایك گواہ بیع کی شہادت دیتاہے اور دوسرا اقرار بیع کی گواہی مقبول ہے۔ |
۵۸۳ |
|
فتوٰی ثانی میں جو وجہ مدعی علیہا کے گواہ کے رد کی بتائی اسی سے مدعی کے گواہ بھی رد ہوگئے۔ |
۵۷۶ |
گواہوں نے یہ کہا"زید نے اپنے لڑکے کو یہ دکان دی"اور لڑکا عرصہ دراز سے اس میں تصرف کرتارہا، تو دینا بمعنی ہبہ مانا جائے گا۔ |
۵۸۳ |
|
دعوٰی اور شہادت دونوں میں تخمینا ذکر ہو تو مردود ہے۔ |
۵۷۶ |
بیعناموں کی چوحدی میں کسی چیز کو کسی کی ملك کہنا شہادت شرعی نہیں ہے۔ |
۵۸۴ |
|
وجہ ہشتم ثبوت شفعہ کے لئے دار ملاصق کا وقت بیع سے وقت حکم تك ملك شفیع ثابت ہونا ضروری ہے۔ |
۵۷۷ |
بیع ناموں کے محرر اگر یہ گواہی دیں کہ یہ بیعنامے ہم نے لکھے حدود میں فلاں مکان کو فلاں کی ملکیت لکھا، یہ بھی شہادت نہیں۔ |
۵۸۴ |
|
صرف اتنی گواہی سے کام نہ چلے گا کہ یہ ملك شفیع ہے۔ |
۵۷۷ |
شاہد مستور الحال ہو اور حاکم کو شبہ گزرے تو وہ وجہ ملك سے تفیش کرسکتاہے۔ |
۵۸۴ |
|
دارمشہود بہا کے پاس گواہی گزرے تو اس کی طرف اشارہ غائب ہو تو چوحدی کا بیان ضروری ہے۔ |
۵۷۹ |
ایك گواہ نے کہا زید نے یہ مکان مولابخش کے ہاتھ بیچا، دوسرا کہے مولابخش نے اقرار کیا کہ یہ مکان میں نے زید سے خریدا، یہ ایك امر پر گواہی نہیں ہے۔ اس لئے مردود ہے۔ |
۵۸۴ |
|
ظاہر حال مدعی کو مفید نہیں۔ |
۵۸۰ |
اقرار اور دعوٰی کا فرق۔ |
۵۸۴ |
|
ترکہ کے ایك مسئلہ میں شہادتوں کی نوعیت سے سوال اور طریق حکم سے استفتاء۔ |
۵۸۰ |
واہب کے"دیا"کہنے اور شاہد کے"دیا"کہنے میں فرق ہے۔ قرائن قول معطی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ |
۵۸۵ |
|
گواہ کسی جائداد کو کسی کی ملك بتائیں تو شہادت عندالشرع معتبر ہے۔ حاکم کو یہ پوچھنے کا حق نہیں کہ یہ جائداد اس کو کس ذریعہ سے ملی۔ |
۵۸۱ |
مبہم گواہی کے بارے میں قاضی استفسار کرسکتاہے۔ |
۵۸۵ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع